پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں اور بھارتی سکیورٹی فورسز کی آئے روز کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات کے باوجود بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کو قونصلر رسائی دے دی ہے۔ پاکستان روز اول سے اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات کی پالیسی پر گامزن ہے مگر بدقسمتی سے بھارتی حکمران اپنی اندرونی کمزوریوں اور ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالتے آئے ہیں۔ بھارت کی موجودہ حکمران جماعت بی جے پی اور بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014ء اور پھر 2019ء کی انتخابی مہم کی بنیادپاکستان اور مسلمان دشمنی پر استوار کی تھی ۔یہ بھارتی وزیر اعظم کی متصبانہ سوچ اور مسلم دشمنی کا ہی شاخسانہ ہے آج بھارت میں ہندو توا کے پجاریوں نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر عیسائی دلت،سکھوں اور دیگر اقلیتوں پر زمین تنگ کر دی ہے۔ گھر واپسی کے نام پر اقلیتوں کو زبردستی ہندو دھرم اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔گائو رکھشا کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں یہاں تک کہ تشدد کرکے ہلاک کرنے کی خبریں بھی معمول بن چکی ہیں اس تناظر میں دیکھا جائے تو وزیر اعظم عمران خان کا امریکہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں یہ کہنا مبنی بر حقیقت محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت کے جارحانہ عزائم سے نہ صرف کشمیر کشمیریوں کے لئے دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے اور خطہ کے دو جوہری ممالک جنگ کے دھانے پر آن کھڑے ہیں بلکہ بی جے پی کے ہندو توا کی متعصبانہ سوچ سے بھارت کی دیگر اقلیتوں کو بھی سنگین خطرات لاحق ہیں وزیر اعظم کا ویڈیو لنک میں یہ کہنا بجا محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی کی متعصبانہ سوچ کا مسلمانوں کے بعد اگلا نشانہ بھارت کی سکھ کمیونٹی ہو گی۔ اس کے برعکس پاکستان میں تمام اقلیتیں خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں بلکہ بلا تفریق مذہب، رنگ و نسل سب کو مساوی تعلیم صحت اور روزگار کے مواقع بھی حاصل ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مقیم نہ صرف سکھ بلکہ ہندو بھی خود کو پاکستان میں بھارت سے زیادہ محفوظ تصورکرتے ہیں اور پاکستان کی عالمی سطح پر مثبت ترجمانی بھی کرتے ہیں اس کا ثبوت گزشتہ دنوں عمرکوٹ میں ہندو برادری کا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف یکجہتی کا اظہار ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سفاکیت اور بربریت کے باوجود پاکستان نہ صرف عالمی عدالت کے فیصلوں کے احترام میں درجنوں پاکستانیوں کے قتل میں ملوث بھارتی جاسوس کوقونصلر رسائی فراہم کر رہا ہے بلکہ بھارت اور دنیا بھر کے سکھوں کی سہولت کے لئے کرتار پور راہداری منصوبہ کو بھی بروقت مکمل کرنے کے لئے پرعزم ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق بھارتی حکومت کرتار پور راہداری کے حوالے سے سرد مہری اور تذبذب کا شکار ہے۔ بھارت پاکستان کے جذبہ خیر سگالی کے جواب میں نہ صرف کنٹرول لائن پر جنگ کا ماحول بنائے ہوئے ہے بلکہ افغانستان کی سرزمیں کو بھی پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ افغان سرزمین سے پاکستان پر بھارتی سرپرستی میں حملوں کے شواہد پاکستان متعدد عالمی فورمز پر مہیا کر چکا ہے۔ ان حالات میں جہاں عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے اور کشمیر میں کرفیو ختم کرنے اور انسانی حقوق کی بحالی کے لئے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے ۔ بھارتی حکمرانوں کو مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے پاکستان سے بامقصد مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لئے بھی دبائو بڑھائے۔تاکہ مسئلہ کشمیر پرامن حل کی کوئی سبیل ممکن ہو سکے۔ پاکستان ایک امن پسند ریاست ہے۔ بھارت کی جانب سے اشتعال انگیز کارروائیوں اور ایٹمی دھمکیوں کے باوجود مسلسل مذاکرات کی پیشکش کی۔ بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جس پر اسے مناسب جواب دیا گیا۔ دنیا کے سامنے یہ دو ایٹمی ریاستوں کے الگ الگ رویے ہیں۔ ان رویوں کا تجزیہ پاکستان کو ذمہ دار ریاست ثابت کرتا ہے مگر بھارت کی غیر ذمہ دارانہ سوچ اور طرز عمل میں اصلاح دکھائی نہیں دے رہی۔ یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں ستر برس قبل بھارت کو کشمیر میں استصواب رائے کی ہدایت کی گئی تھی۔ حالیہ دنوں متعدد عالمی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ پوری ذدنیا کا میڈیا چیخ رہا ہے کہ کشمیریوں کا محاصرہ ختم کیا جائے۔ ایک ماہ سے عاید کرفیو اٹھایا جائے۔ بیماروں اور زخمیوں کو ادویات فراہم کی جائیں‘ بچوں کو دودھ مہیا کیا جائے اور مظلوم کشمیریوں تک خوراک پہنچائی جائے لیکن بھارت ان کی بات پر توجہ دینے کو تیار نہیں۔ دوسری طرف پاکستان ہے جسے عالمی عدالت انصاف نے جاسوس کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے کا کہا تو اس نے قانون کے مطابق ہدیات پر عملدرآمد کیا۔ تنازع کشمیر نے پاکستان اور بھارت کو جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ بھارت نے معاملے کو پرامن ذرائع سے حل کرنے کے امکانات کا گلا گھونٹنے دینے کی قسم کھا رکھی ہے۔ اس کا دیرینہ موقف کہ پاک بھارت تنازعات کو دو طرفہ بات چیت سے حل کیا جائے‘ اب بدل چکا ہے۔ بھارت نے تیزی سے اپنا چہرہ بدلا ہے۔ عالمی برادری دیکھ رہی ہے کہ خطے میں بڑھتا ہوا تنائو عالمی امن کے لئے خطرہ بن رہا ہے۔ کشمیر کے تنازع پر ابھی تک اقوام متحدہ اورمغربی طاقتوں نے زبانی اور تحریری تشویش ظاہر کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ بھارت کی ہٹ دھرمی تقاضا کرتی ہے کہ کشمیر سے بھارتی افواج کو نکال کر وہاں عالمی امن دستے تعینات کئے جائیں اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں جلد سے جلد استصواب رائے کا انتظام کیا جائے۔