بھارت کی خونخوارہندوتنظیمیں جوزہرپھیلانے پرلگی ہوئی ہیں اسی کے سبب بھارت میں اسلامو فوبیا معاندانہ رویہ اختیار کر چکا ہے۔یہ انہی دہشت گرد تنظیموں کا کیاکرایا ہے کہ بھارتی مسلمانوں کی شناخت سے لیکر ان کے وجود کے خاتمہ کی سعی کی جا رہی ہے۔ مودی کوسامنے لاکریہ تنظیمیں مسلمانوں کی تاریخ سے لے کران کاوجود دا ئوپر ہے۔ پورے بھارت میں مسلم پہچان اورمسلمانان لاحقے کھرچ کھرچ کر مٹائے جارہے ہیں۔ دہلی کی میونسپل کونسل نے 2ستمبر 2015کو اورنگ زیب روڈ کا نام تبدیل کرکے عبدالکلام روڈ کردیا۔ یوپی یعنی اترپردیش حکومت نے 5اگست 2018ء کو مغل سرائے جنکشن کا نام تبدیل کرکے اس کانام آر ایس ایس کے لیڈر پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن رکھا۔16اکتوبر 2018کو الہ باد کا نام پریاگ راج اور 6نومبر 2018کو فیض آباد کا نام ایودھیا سے تبدیل کر دیا گیا۔ ہریانہ میں 2فروری 2016 کو مصطفی آباد کا نام سرسوتی نگر رکھ دیا گیا۔ گجرات، مہاراشٹر اور دیگر بھارتی صوبوں میں ان تمام جگہوں کے نام بدل دیے گئے ہیںجن کے ساتھ مسلم لاحقے تھے۔ جبکہ بہت سارے تبدیل ہونے کیلئے شبھ مورت یانئے ناموںکے انتظار میں ہیں۔ باریش مردوں اور باپردہ عورتوں کو ملازمت سے بے دخل کیاجا رہا ہے۔ مسلمانوں کو سوسائٹی اور اپارٹمنٹ میں گھر دینے سے انکار کیاجاتا ہے،مسلم لباس بالخصوص ٹوپی اور داڑھی کی وجہ سے ہوٹلوں سے نکال دیا جاتا ہے۔انڈین ائیر فورس کے انصاری آفتاب احمد نے عدالت میں 24فروری 2003 سے 10دسمبر 2016تک داڑھی رکھتے ہوئے ملازمت کے لیے پیروی کی لیکن انڈین ایئر فورس نے سپریم کورٹ کو یہ کہتے ہوئے ملازمت کی اجازت نہیں دی کہ صرف ان لوگوں کو داڑھی رکھنے کی اجازت مل سکتی ہے جن کے مذہب میں واضح طور پر بال کاٹنے سے منع کیا گیا ہو، جبکہ اسلام میں یہ ایک اضافی معاملہ ہے اور دنیا کے مسلمان کی اکثریت داڑھی نہیں رکھتی ہے۔ بعینہ علی گڑھ یونیورسٹی کی سابق کیبنیٹ ممبر غزالہ احمد کو2 ستمبر 2020کو ایک ہندی نیوز پورٹل میں اینکر کی ملازمت دینے سے انکار کرتے ہوئے اس سے کہا گیا کہ یہ ہندوستان ہے۔ یہاں کسی بھی براڈ کاسٹ میڈیا میں حجابی صحافی کام نہیں کرتی۔ اگر نوکری چاہیے تو حجاب اتارنا ہوگا۔ اس قسم کے کئی معاملے روز بروز پیش آتے رہتے ہیں۔ کتنوں کو جمعہ کی دو رکعت نماز پڑھنے کی وجہ سے کالج سے نکال باہر کردیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی تو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔4 مئی 2018ء کو سنیکت ہندو سنگھرش سمیتی نے دس کھلی جگہوں پر ہو رہی جمعہ کی نماز کو رکوا دیا تھا۔ جب یہ لوگ گڑگائوں سیکٹر 53 میں نماز رکوانے آئے تو مسلمانوں کی نماز مکمل کرنے کی درخواست پر مارنے پیٹنے پر آمادہ ہو گئے۔ ان واقعات کاتذکرہ اس لئے کررہاہوں تاکہ اصل بات سمجھنے میں کوئی دقعت پیش نہ آجائے اوروہ یہ کہ بھارت میں ہندووں کے علاوہ اگرکوئی رہنا چاہتا ہے تو وہ اس وقت تک ہندئووں کے رحم و کرم پر رہ سکتا ہے جب تک یہ اسے حقوق ِشہریت سے محروم رکھ کر غلام کی طرح رکھنا چاہیں یا پھر دوسری صورت یہ کہ وہ اپنی تہذیب و ثقافت کو ہندئووں کی تہذیب و ثقافت میں ضم کر لیں۔ تقسیم ہند سے قبل اور پھر اس کے بعد مسلمانوں سے نفرت کرنے کی جو کھیتی کی گئی ہے۔ نریندرمودی سرکارمیں وہ برگ وبار لا چکی ہے۔ مودی دراصل آر ایس ایس کا چہرہ بن کرکھڑاہے اور وہ ہرلحاظ سے بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کے درپے ہے ۔مودی دور حکومت میں ہندو دہشت گرد تنظیمیں آج ہندوستان میں بام عروج پرہیں بلکہ وہی بھارت کی حکمرانی کر رہی ہیں۔مودی دور میں جو تنظیمیں پورے بھارت میں دھندنارہی ہیں ان میں آرایس ایس، اس کافی میل ونگ راشٹریہ سیویکا سمیتی، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد، آرایس ایس کاطلبہ ونگ سرسوتی ششو مندرنر سری اسکول۔ آرایس ایس کاذہن سازونگ ون واسی کلیان آشرم دلتوں کی تربیت اور ان کی ذہن سازی کے لیے قائم کیا گیا تھا۔آرایس ایس کامزدور ونگ بھارتیہ مزدور سنگھ۔آرایس ایس کاہندئووں کی حفاظت ونگ وشوا ہندو پریشد۔ آر ایس ایس کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق اسے لوگوں کے مذاہب کو تبدیل کرکے ہندو بنانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔آرایس ایس کایہ ونگ گئور کھشا کے نام پر قتل وغارت گری کرنے اور بابری مسجد کے انہدام میں پیش پیش رہ چکی ہے۔ اسے امریکی CIAنے 2018ء میں ہندودھرم کی دہشتگرد تنظیم قرار دیا تھا۔آرایس ایس کاگراس روٹ لیول کاونگ اکھل بھارتیہ گراہک پنچایت اورودھیا بھارتی: 2016کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کے تحت 12,000اسکول 250 انٹر کالج، 25 اعلیٰ تعلیمی مراکز اور کئی سارے تعلیمی ادارے ہیں۔ آرایس ایس نے بھارتی تاریخ کو نئے سرے سے ہندوتوا بنیادوں پر مرتب کرنے کے لیے اکھل بھارتیہ اتہاس سنکلن یوجنا تنظیم بنائی ہے۔ آر ایس ایس نے مسلمانوں کے خلاف بدظن کرنے کے لئے ہندو جاگرن منچ تنظیم کی ہے۔یہ تنظیم 2014میں 50 مسلمان خاندانوں کومرتد بناچکی ہے۔ اکھل بھارتیہ راشٹریہ شکچھک مہا سنگھ اس تنظیم کے تحت اساتذہ کی ایسی تربیت کی جاتی ہے تاکہ یہ اپنے عملی زندگی میں بچوں کو ہندوانہ طور طریقے کے مطابق ڈھال سکیں۔اس کے علاوہ آرایس ایس نے پورے بھارت میںایسے کوچنگ سینٹرزبنائے ہیں کہ جو آر ایس ایس کے اصولوں اور اس سے انسپائر سنکلپ کے پورے انڈیا میںکام کررہے ہیں۔ ان کا دراصل قیام انٹرویو گائیڈنس کے طور پر ہوا تھا پھر باضابطہ کوچنگ دی جانے لگی،یہاں سے ہر سال بڑی خاموشی سے سینکڑوں افراد بیوروکریسی میں جا رہے ہیں۔ ویسے تو اس سے جڑے ہوئے اساتذہ ہندوستان کے تمام مرکزی اداروں میں پھیلے ہوئے ہیں لیکن ان کی کوشش ہے کہ ابتدائی کلاسوں سے لیکر اعلی تعلیمی درجات کے ہر شعبہ میں ان کا اپنا ایک سینٹرہو جس کیلئے ان کی کوششیں جاری ہیں۔ اس کیلئے انہوں نے کئی ریاستوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ کلوسڈ ڈور میٹنگیں بھی کی ہیں تاکہ ان کے مقاصدسرکاری سرپرستی میں مکمل ہوں۔ درگا واہنی یہ وشو اہندو پریشد کا خواتین ونگ ہے۔آرایس ایس کی وکلاء تنظیم اکھل بھارتیہ ادِھوکتا پریشد،اکھل بھارتیہ پورو سینک سیوا پریشدہے۔ ریٹائر فوج کی خدمات حاصل کرنے کیلئے۔مسلم راشٹریہ منچ: مسلمانوں کو ہندوتوادی فکر کا ہم خیال بنانے کیلئے قائم کیا گیا تھا۔