اسلام آباد ،راولپنڈی(نامہ نگار،وقائع نگار خصوصی،92 نیوزرپورٹ،نیوزایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری جے وی اوپل کیس کے سلسلہ میں نیب راولپنڈی اولڈ ہیڈکواٹرزمیں پیش ہوگئے ۔ نیب کی تفتیشی ٹیم نے بلاول سے ایک گھنٹہ تک پوچھ گچھ کی اور انکابیان قلمبندکیاجبکہ 35 سوالات پر مشتمل سوالنامہ حوالے کرتے ہوئے 2ہفتوں میں تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ ذرائع کے مطابق بلاول جے وی اوپل کیس میں نیب کو مطمئن نہیں کر سکے ۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ میں پبلک آفس ہولڈر نہیں تھا، نیب کا مجھے بلانے کا کیا تْک بنتا ہے ؟ ،حکومت کی گیدڑ بھبکیوں میں نہیں آئینگے ۔ گرفتار ہوا تو آصفہ بھٹو میری آواز ہوگی،میرے بعد جدو جہد کو آگے لیکر چلیں گی۔نیب کی جانب سے بار بار ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔حکومت اور نیب کی طرف سے میری سیاسی کردار کشی ہو رہی ہے ،ہماری غلط فہمی تھی کہ نیب والے ایک سال کے بچے پر مقدمہ نہیں بنائیں گے ۔ دباؤ کے باوجود پیچھے نہیں ہٹوں گا۔بلاول نے کسی ادارے کا نام لئے بغیر کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جمہوریت اور سیاست دانوں کو بدنام کیا جائے ، یہ سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے ۔پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ کو نہیں مانتے ، اسے پھاڑ کر اڑا دینگے ، حکومت نے سفید پوش طبقے کا معاشی قتل کیا ، پھر کہتے ہیں قبر میں سکون ملے گا، افسوس سے کہنا پڑتا ہے معاشی، کشمیر، دہشتگردی اور سیاست کے معاملات پر اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان اسمبلی میں نہیں ہوتے ، امید ہے اپوزیشن لیڈر ملک میں جلد ہونگے اور اپنا کردار ادا کرینگے ۔دریں اثنا پیپلز پارٹی نے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کی نیب طلبی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نیئر حسین بخاری ، قمرزما ن کائرہ ، شیری رحمٰن ، چوہدری منظور اورناصر شاہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بلاول جب بھی حکومت کی نااہلی پر بات کرتے ہیں نیب کا بدنیتی پر مبنی نوٹس آجاتا ہے ،حکمران کہتے تھے ہمارے پاس سب کیخلاف ثبوت ہیں، 18ماہ ہوگئے کہاں گئے ثبوت؟،شہزاد اکبر کہاں چھپ گئے ؟۔ بلاول کی طلبی کے موقع پر نیب اولڈ ہیڈ کواٹرز اور نیب راولپنڈی آفیس کے گردو نواح سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔پیشی سے قبل وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی گاڑی بلاول کی پروٹوکول کی گاڑی سے ٹکرا گئی۔حادثے کے وقت وزیر اعلیٰ سندھ اور راجہ پرویز اشرف گاڑی میں موجود تھے ۔حادثہ نیب اولڈ ہیڈکوارٹر میں داخلے کے وقت پیش آیا ۔دریں اثنا پیپلز پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو نیب اولڈ ہیڈ کوارٹرز جانے سے روک دیا گیا۔انارکان پارلیمنٹ میں شاہدہ رحمانی، سینیٹر سسی پلیجو، کرشنا کماری، طارق شاہ اور دیگر شامل تھے ۔ علاوہ ازیں بلاول سے پارلیمنٹ ہاؤس میں جرمنی کے سفیربرنارڈ شیلاگ ہیک نے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات پر گفتگو کی گئی ۔ بلاول نے کہاکہ جرمنی اور پاکستان کے تعلقات مثالی ہیں۔ جرمن سفیرنے بینظیر بھٹو کی شخصیت اور انکی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ بلاول کے مثبت خیالات کوسراہا اور اظہار تشکر اداکیا ۔ملاقات میں شیری رحمٰن، سلیم مانڈوی والا اورنیئر بخاری بھی موجود تھے ۔