قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ سابق اپوزیشن لیڈر کے خلاف آمدن سے زائداثاثوں کی انکوائری جاری تھی۔ نیب سکھر نے آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری کے حوالے سے خورشید شاہ کو بروزبدھ طلب کیا تھالیکن پیپلز پارٹی رہنما نے نیب سکھر آفس میں پیش ہونے سے معذرت کر لی تھی۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ بلا تفریق احتساب نظر آ رہا ہے۔ نیب نے ایک برس میں حزب اقتدار اور اختلاف سمیت بیورو کریسی ‘ منی لانڈرنگ اور نادہندہ افراد کو گرفتار کیا ہے، کئی ملزمان نیب کے پلی بارگیننگ قانون سے فائدہ اٹھا کر لوٹی رقم واپس کر چکے ہیں جبکہ بعض ملزمان لوٹا ہوا مال واپس کرنے پر راضی نہیں، اسی بنا پر وہ ابھی تک جیلوں کے مہمان بنے ہوئے ہیں۔ سید خورشید شاہ کے خلاف 83جائیدادوں اور 500ارب روپے کے بے نامی اثاثوں کا کیس ہے۔بار بار طلبی کے باوجود وہ جس کی وضاحت پیش نہیں کر سکے۔ در حقیقت گزشتہ 10برسوں میں قومی خزانے کو بے دردی کے ساتھ لوٹا گیا ، کرپٹ عناصر کے گٹھ جوڑ کی بنا پر تب نیب ایک مفلوج ادارہ بن کر رہ گیا تھا، جو صرف حکومت مخالف افراد کے خلاف ہی حکومتی ایما پر حرکت میں آتا تھا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے 90ء کی دہائی میںایک دوسرے کو گھسیٹا۔چوکوں اور چوراہوں پہ مجمعے لگائے ،اسمبلی فورم سے لیکر گھر کے بیڈروموں تک ایک دوسر ے پر الزامات کی بارش کی ۔ میاں نواز شریف نے اپنے دور اقتدار میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف سیف الرحمن کے ذریعے مختلف کیسز بنوائے ۔ سیف الرحمن نے بحیثیت چیئرمین نیب میرٹ سے ہٹ کر میاں نواز شریف کی خوشنودی کے لئے ان کے سیاسی مخالفین کو دیواروں کے ساتھ لگانے کے لئے من گھڑت کیسز کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ بعدازاں پیپلز پارٹی نے بھی انتقامی کارروائی کرتے ہوئے اپنے مخالفین پر کئی کیسز بنوائے تھے۔ چوہے بلی کا یہ کھیل ایک عرصے تک چلتا رہا۔ اس کے بعد سابق آمر پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو اس نے احتساب کے نام پر انتقامی سیاست کی بنیاد رکھی۔ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ بلند کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی۔ احتساب بیوروکو متحرک کر کے سیاسی پارٹیوں کے حصے بخرے کئے۔ پیپلز پارٹی سے پیٹریاٹ کا ہیولا کھڑا کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن)پرکٹ لگا کر (ق) لیگ تخلیق کی گئی۔ 2008ء کے الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت آئی ، اس کے بعدمیثاق جمہوریت کے تحت دونوں بڑی پارٹیاں شریک اقتدار ہوئیں اور قومی خزانے کا صفایا کیا۔ 2013ء میں میاں نواز شریف اقتدار میں آئے تو انہوں نے ایک بار پھرپرانی تاریخ دھراتے ہوئے پیپلز پارٹی کے خلاف کیسز بنوائے آج پیپلز پارٹی کی صف اول کی قیادت انہی کیسز میں گرفتار ہے۔لیکن الزام موجودہ حکومت پر عائد کیا جا رہا ہے ۔ ایک بات کا برملا اعتراف کرنا چاہیے کہ حالیہ احتساب میں تحریک انصاف کے اپنے وزراء بھی گرفتار ہوئے ہیں۔ سابق سینئر صوبائی وزیر علیم خاں‘ سابق صوبائی وزیر جنگلات سبطین اس کے علاوہ وفاقی وزیر اعظم سواتی اور مشیر وزیر اعظم بابر اعوان نے بھی نیب انکوائری کا کھل کر سامنا کیا ہے ۔ خود وزیر اعظم عمران خان2018ء کے الیکشن میں واضح اکثریت ملنے کے بعد ہیلی کاپٹر کیس میں نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ درحقیقت اپوزیشن جماعتوں کا گٹھ جوڑ احتساب کے عمل کو رکوانے کے لئے ہے۔ گزشتہ روز بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے احتساب پر ہی شور شرابہ کیا تھا ۔ یہ طرفہ تماشہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اسمبلی اجلاس میں کسی قسم کی قانون سازی نہیں ہونے دیتیں لیکن ٹی اے ڈی اے پورا وصول کرتی ہیں ۔ علیم خان کی گرفتاری کے موقع پر بھی اپوزیشن جماعتوں نے شور مچایا تھا۔ اپوزیشن جماعتیں یہ بخوبی سمجھتی ہیں کہ انہوں نے جو غیرقانونی اثاثے بنائے ہیں، اب ان کی واپسی ہو کر ہی رہے گی۔ چندروز قبل ہی حکومتی ایم این اے سید باسط بخاری کو بھی نوٹس جاری ہوا ہے، اسی طرح کئی اور وزیر‘ مشیر اورحزب اقتدار میں شامل ایم این ایز اور ایم پی ایز نیب کے ریڈار پر ہیں۔ اپوزیشن ارکان ایک چوری دوسرا سینہ زوری سے کام لے رہے ہیں، پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر یوسف بلوچ کو نیب نے بارہا طلب کیا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے اور بالآخر گرفتار کر لئے گئے۔ اگر کسی لیڈر نے کرپشن نہیں کی تو اسے نیب کے سامنے پیش ہونے میں کاہے کا ڈر اور خوف ہے۔ دراصل یہ لوگ لیت و لعل سے کام لے کر لوٹا ہوا پیسہ ہضم کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر کھلے الفاظ میں کہا ہے کہ وہ اپوزیشن کی کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔ ماضی میں بھی قرض این آر او کی وجہ سے 6ہزار سے بڑھ کر 30ہزار ارب تک پہنچاہے۔ کرپشن کے باعث ہی آج مہنگائی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ آج پوری قوم غربت‘ مہنگائی اور بے روزگاری کی دلدل میں دھنس چکی ہے ،جس کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں۔ اپوزیشن اوچھے ہتھکنڈوں کی بجائے احتساب میں تعاون کرے۔ احتساب پر شور مچانے کی بجائے قانون کے سامنے سرنڈر کریں اور لوٹا ہوا پیسہ واپس کریں۔ عوام احتساب کے معاملے میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، اس بار وہ اپوزیشن کے جھوٹے وعدوں اور دعوئوں پر یقین نہیںکریں گے۔ اپوزیشن جماعتیں اپنے اندر احتساب کے عمل کو تیز کریں۔ اگر سیاسی جماعتوں میں بھی احتساب کا سلسلہ شروع ہو جائے تو کرپٹ عناصر کو حکومتی صفوںمیں گھس کر قومی خزانے کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا موقع ہی نہ ملے۔اس لیے سیاسی جماعتیں اپنے اندر احتساب کا سلسلہ شروع کریں اور اقتدار میں آنے کے بعد قومی خزانہ کو عوامی ترجیحات کے منصوبوں پر خرچ کریں تاکہ انہیں بعدازاں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔