بلوچستان حکومت نے صوبے کی زمین غیر ملکی کمپنیوں اور بیرونی سرمایہ کاروں کو صرف لیز پر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔سی پیک منصوبے کی شروعات کے بعد غیر ملکیوں کو زمین فروخت کرنے کے پروپیگنڈے کے بعد سیاسی افق پر جو گھٹائیں چھائیں تھیں ‘وہ چھٹ گئی ہیں۔ ایک عرصے سے بلوچستان میں بے یقینی عروج پر تھی اور وہاں کے باسیوں کے دل و دماغ میں طرح طرح کے خدشات جنم لے رہے تھے‘ ملک دشمن طاقتیں ان خدشات کو یقین میں ڈھال کر پیش کرتیں اور افراتفری پھیلا کر صوبے کو غیر مستحکم کرتی تھیں لیکن حکومت بلوچستان نے عوام کے جذبات کو مدنظر رکھ کر بہترین فیصلہ کیا ہے۔ ماضی میں بننے والی حکومتوں نے غیر ملکی مقاصد کی آبیاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔زمین لیز کے سلسلے میںکمانڈر سدرن کمانڈجنرل عاصم باجوہ کی دلچسپی اور کوششوں کے بعدبلوچ عوام کے تحفظات دور کرنے کا انتظام کیا گیا۔ جمہوری حکومت ن لیگی دورکے پیدا کردہ مسائل پیٹھ پر لادے‘ صوبے کو خوشحالی کی جانب لیجانے کی کوشش میں ہے جبکہ فوج کی بھر پور معاونت کے باعث اب کوئی غیر ملکی قوت بلوچستان کو کھلی چراہ گاہ سمجھ کر منہ مارنے کی حماقت نہیں کرتی۔ امن و امان قائم ہونے پرعوام بھی مطمئن ہیں۔ لیکن اپنی ماں دھرتی کی غیر ملکیوں کے ہاتھوں فروخت کی خبروںپر وہ تشویش میں مبتلا تھے۔ کمانڈر سدرن کمانڈ کی کوششوں سے صوبائی حکومت نے یہ خدشہ بھی ختم کر دیا ہے۔ اب بلوچستان میں کوئی بھی غیر ملکی فرم اراضی نہیں خرید سکے گی بلکہ سرمایہ کاری کے حجم کے مطابق مخصوص مدت تک لیز پر حاصل کر سکے گی۔