بلوچستان اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2022-23ء کا 612ارب 70کروڑ روپے کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے۔ ٹیکس فری بجٹ میں 72ارب روپے خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تنخواہوں اور پنشن کی مد میں 15فیصد اضافہ اور مزدور کی کم سے کم اجرت 25ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ خسارے کے باوجود صوبائی بجٹ کو اس لحاظ سے امید افزا قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس میں پہلی مرتبہ نوجوانوں کے لئے 2851 نئی اسامیاں رکھی گئی ہیں جس سے بیروزگاری پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کا تناسب ترقیاتی اخراجا ت کے مقابلہ میں زیادہ ہے ۔انہیں کم کرکے نا صرف بجٹ خسارے پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لئے بھی زیادہ رقم مختص کی جا سکتی تھی جن کیلئے بالترتیب 43 اور 83 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ صوبے کی پسماندگی دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ عوامی خدمات کے اداروں کے لئے زیادہ سے زیادہ رقوم مختص کی جائیں۔ صوبائی وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ماضی کے برخلاف پہلی مرتبہ اپوزیشن جماعتوں کو عوام کے جائزمسائل کے حل کے لئے براہ راست ترقیاتی فنڈ دیئے جائیں گے ۔بلاشبہ یہ ایک احسن اقدام ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاق بھی بلوچستان کو اس کی توقع کے مطابق 370ارب روپے فراہم کرے تا کہ صوبہ کے پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔