مکرمی ! ایک این جی او کی ایک رپورٹ کے مطابق ، ملک میں روزانہ لگ بھگ 11 بچے جنسی استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ ہمارے بچے خطرے میں ہیں اور محفوظ رہنے کے لیے ان کے والدین کی مستقل توجہ کی ضرورت ہے۔ اکثر اوقات خاندان یا ایسے معاملات میں ، بچے یا تو بولنے سے زیادہ خوفزدہ ہوتے ہیںمتعدد بار ، عمائدین بدسلوکی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کرتے ہیں کیوں کہ کنبہ کی ساکھ کو خطرہ ہوتا ہے ، ایسی ذہنیت جہاں عزت کو کسی مجرمانہ فعل سے زیادہ وزن دیا جاتا ہو سے صرف بدسلوکی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو سزائے موت کا مسئلہ درپیش ہے۔ لیکن ان لوگوں کے حقوق کا کیا ہوگا جن سے خوفناک انداز میںظلم کیا گیا اور قتل کیا گیا؟ میری حکام بالا سے گزارش ہے کہ وہ بچوح کے تحفظ کے کیے قانون سازی کریں اور ایسے درندوں کے لیے عبرت ناک سزا تجویز کی جائے ( بلال شبیر اسلام آباد)