ابھی حال ہی میں دہلی کے جنتر منتر چوراہے پر بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے کشمیر پر ہوئی یلغار پر مظاہرہ کا اہتمام کیا تھا۔ مگر کسی مسلم تنظیم کو وہاں آنا گوارا بھی نہیں ہوا۔ کشمیر نے بھی گجرات سے کچھ کم نہیں دیکھا۔ پچھلے 26برسوں کے دوران کشمیر میں سیکورٹی ایجنسیوں اور اس کے حاشیہ برداروں کے ہاتھوں معصوم بچیو ں ‘ لڑکیوں اور عورتوں کی عصمتیں پامال کی گئی ہیں اس کا ہلکا سا اشارہ اینڈرن لیوی اور کیتھی اسکاٹ نے اپنی معرکتہ الآرا تصنیف The Meadows میں کیا ہے۔ ا ن برطانوی مصنفین نے لکھا ہے کہ کس طرح ایک سرکاری بندوق بردار نے ایک ماں کی گود سے اس کے شیرخوار بچے کو چھین کر اس کی آنکھوں کے سامنے ہی یخ بستہ پانی میں ڈبو دیا اور تڑپاتڑپا کر مارڈالا۔ اس خاتون کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنی عصمت اس بندوق بردار سرکاری اہلکار کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تھا۔ کتاب کے مصنفین نے ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ راشٹریہ رائفلز کے’چھتر چھایا‘ میں ایک اور سرکاری بندوق بردار ایک دیہاتی لڑکی نسیمہ کی اغوا کرکے اس وقت تک اس سے اپنی جنسی ہوس کی پیاس بجھاتا رہا جب تک کہ وہ لڑکی حاملہ نہ ہوگئی۔ا سی دوران اس سرکاری بندوق بردار کی نگاہ نسیمہ کے بہن پر بھی پڑ گئی اور اسے بھی اغوا کرلیا گیا ۔ جب بدقسمت والدین نے پولیس میں شکایت کی تو دوسرے ہی دن بندوق بردار نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھرے بازار میں پہلے تو اپنی بندوق کی نوک پر ہجوم کو اکٹھا کیا اور پھر آٹھ ماہ کی حاملہ نسیمہ کا لباس تار تار کرکے سب کے سامنے گولیاں اس کے پیٹ میں اتار دیں۔نسیمہ نے وہیں دم توڑ دیا اور اس کے پیٹ میں پلنے والا بچہ اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی موت کی آغوش میں چلاگیا۔کشمیر کی موجودہ تاریخ ایسے ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے۔ چند روزقبل دہلی کی شاہی جامع مسجدکے امام سید احمد بخاری نے شکوہ کیا کہ کشمیر ی مسلمانوں نے کبھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے، کہ گزشتہ 60برس جب بھی بھارت کے کسی کونے میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہوئی تو کشمیریوں نے اپنے جلتے ہوئے گھروں کے شعلوں کوفوراًفراموش کرکے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے کسی نہ کسی طرح سے اپنی آوازبلند کی۔مراد آباد کے فسادات کے وقت کئی روز تک کشمیر بند رہا۔ سوپور میں تو مظاہروں کے دوران ایک شخص ہلاک بھی ہوگیا۔ یہ واقعی شرم کی بات ہے کہ بھارت کے مسلم لیڈران و دانشوروں نے جموں وکشمیر میں ہورہی زیادتیوں کے متعلق اپنے منہ ایسے بند کئے ہیں جیسے ان کی چابیاںہندو انتہا پسندوں کے پاس ہوں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ کم سے کم سیکولر پارٹیوں سے یہ ہی وعدہ کرایا جاتا کہ وہ اقتدار میں آکر کشمیر میں ظلم و زیادتی کو بند کرائیں۔خوش آئند پہلو یہ ہے کہ مسلم لیڈروں کے برعکس، بھارت میں مسلمان عمومی طور پر کشمیر کے سلسلے میں خاصے اضطراب میں ہیں۔ پچھلے کئی انتخابات کے دوران جب بھی مجھے ملک کے اندرونی اور دوردراز علاقوں کا دورہ کرنے کا موقع ملا ، تو مسلم بستیوں میں عوام کو کشمیر کے سلسلے میں خاصے فکرمند پایا۔ چند برس قبل جب خواجہ معین الدین چشتیؒ درگاہ کے دیوان زین العابدین اور خادم پیر نسیم میاں نے اعلان کیا کہ وہ اپنے حامیوں اور مریدوں کی فوج سرینگر لے جا کر ایک ہزار بھارتی پرچم لہرائیں گے۔ تو وہ خود اپنے ہی مریدوں کی ناراضگی کا شکار ہوگئے۔ بریلی میں امام رضا احمد خان کے خانوادہ کے ایک فرد اور لیڈر نے مجھے بتایا کہ ان کی گردن شرم سے جھک جاتی ہے کہ وہ کشمیری عوام کی کوئی مدد کرنے سے قاصر ہیں، اسلئے وہ خاموشی کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ ایک طرف وہ خانقاہوں سے نکل کر رسماً ہی رسم شبیری ادا کرنے کیلئے تیار ہیں، وہیں دوسری طرف اسیران مالٹا اور کالا پانی کے جانشین، اپنے بیانات اور ا قدامات سے کشمیری عوام کے زخموں کو مزید کریدکر ناسور بنار ہے ہیں۔ راجیہ سبھا کے سیٹوں کے حصول سے زیادہ توجہ اس بات پر مرکوز ہو کہ کل تاریخ آپ کو کیسے یاد کریگی۔ تاریخ خاصی بے رحم ہوتی ہے۔آئین کی دفعات اور ملک تحلیل ہو سکتے ہیں، مگر قانون قدرت تحلیل نہیں ہوسکتا۔تاریخ کا پہیہ ساکت نہیں رہتا، یہ گھومتا رہتا ہے اور اس قوم کے لیے خاصا بے رحم ثابت ہوتا ہے، جو اکثریت اور طاقت کے بل بوتے پر کمزور اور ناتواں کی زندگیاں اجیرن بنادے۔ میری بے بسی پر ہنسنے والو، تاریخ سے سبق لے کر مستقبل کے آئینے میں اپنی بربادی کا منظر دیکھو۔ بعض دفعہ خاموشی کے بھی بڑے فائدے ہوتے ہیں۔درد کا علاج نہیں کر سکتے ہو تو درد کی لاج ہی رکھو۔ شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات۔۔ (ختم شد)