نئی دہلی، اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں ) پاکستان سے واپس پہنچنے پر بھارتی پائلٹ ابھی نندن سے مجرموں جیسا تضحیک آمیز سلوک کیا جا رہا ہے ۔ابھی نندن کا تفصیلی میڈیکل چیک اپ کراکے اہلخانہ سے مختصر ملاقات کرائی گئی۔ بھارتی پائلٹ ابھی نندن جسے ایک روز پہلے تک بھارتی میڈیاہیرو بنا کر پیش کرتا رہا مگر واہگہ سرحد پر زیرو پوائنٹ عبور کرتے ہی ابھی نندن کو زیرو بنا دیا گیا۔ ابھی نندن کیساتھ اپنے ہی ملک میں جنگی قیدیوں اور اچھوتوں جیسا برتائو کیا جا رہا ہے ۔ ابھی نندن کو واہگہ بارڈر سے سخت سکیورٹی حصار میں نئی دہلی لے جایا گیا اور فوجی ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا جہاں گزشتہ روز اس کا تفصیلی ایم آر آئی اور سٹی سکین کرایا گیا۔ ابھی نندن سے اس کے اہلخانہ کی صرف دس منٹ کیلئے ملاقات کرائی گئی۔ اس کے بعد بھارتی پائلٹ کی اسی طرح ڈی بریفنگ شروع ہوگئی جیسے ایک جنگی قیدی کی وطن واپس پر کی جاتی ہے ۔ پہلے مرحلے میں ابھی نندن کو بھارتی وزیر دفاع نرملا سیتھرامن کے سامنے پیش کیا گیا۔اس موقع پر بھی اسے دس فٹ دور ایک اکیلی کرسی پر بٹھایا گیا ۔ اس موقع پر دیگر اعلیٰ فوجی افسران بھی موجود تھے ۔ ملاقات میں ابھی نندن سے مختلف سوالات کئے گئے ۔بھارتی فضائیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ابھی نندن کو ریٹائر نہیں گرائونڈ کیا گیاہے ۔انہیں ملٹری ہسپتال میں ایک رات رکھنے کے بعد فضائیہ کے ایک ہاسٹل میں منتقل کیا گیا ہے ۔ ان کی ڈی بریفنگ کی جا رہی ہے ۔ زخموں اور ڈی بریفنگ سیشنز کے باعث انہیں فی الحال گرائونڈ کیا گیاہے ۔ادھر بھارتی سرکار نے یوٹیوب کو درخواست دیکر ونگ کمانڈر ابھی نندن کی 11ویڈیوز ڈیلیٹ کرادیں جس کی تصدیق بھارتی میڈیا نے بھی کی ہے ۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق یوٹیوب نے جمعرات کو ابھی نندن کی 11ویڈیوز ہٹا دیں جس کی درخواست بھارت کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کی تھی ۔ دریں اثناء پاکستان نے بھارت کی جانب سے پائلٹ ابھی نندن کی تاخیر سے حوالگی کے الزامات مسترد کردئیے ۔سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی پائلٹ کی حوالگی میں تاخیر سے متعلق بھارتی میڈیا کی خبریں جھوٹ پر مبنی ہیں۔ ابھی نندن کی حوالگی کیلئے 8 سے 9 بجے کا وقت بھارت کی درخواست پر طے کیا گیا تھا ۔ بھارتی میڈیا اس حوالے سے پروپیگنڈا مہم چلا کر جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے ۔