پاکپتن ، قصور،حجرہ شاہ مقیم ، چیچہ وطنی، ہیڈ مرالہ، الہ آباد ( ڈسٹرکٹ رپورٹرز،نمائند گان 92 نیوز، نامہ نگار) حجرہ شاہ مقیم کے ملحقہ علاقوں سے گزرنے والے دریائے ستلج میں بھارت کی جانب سے اضافی پانی چھوڑے جانے کے باعث دریا میں پانی کی سطح مزید بلند ہونے سے ملحقہ بستیاں زیر آب آگئیں، ریسکیو عملہ علاقہ مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف رہا، اٹاری کے مقام پر ریسکیو کی 6کشتیاں اور 6 ٹیمیں متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر تے رہے ، پوران اور اٹاری کے مقام پر 350افراد کو ریسکیو کیا گیا جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے ، بہترین پیشہ وارانہ ریسکیو عمل پر معاون خصوصی وزیر اعلی پنجاب شہباز گل نے اوکاڑہ ریسکیو عملہ کو شاباش دی ، ڈپٹی کمشنر مریم خان نے کہا متاثرہ افراد کو سیلابی صورت حال سے نکالنے کے لیے پاکستان آرمی اور رینجرز کے جوان بھی مددگار ہیں ۔ ساہیوال میں چیچہ وطنی میں دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے لگی، نواحی دیہات میں کھڑی فصلیں زیر آب آ گئیں، متعدد گاؤں کے رہائشی پریشان، موضع دو چرخہ میں کئی مکان گر گئے ۔ دریائے ستلج میں چھوڑا گیا پانی ہیڈ گنڈا سنگھ قصور سے گزر کر ہیڈ سلیمانکی سے ہوتے آج پاکپتن میں داخل ہوگا، پاکپتن کے 71دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے ، 90ہزار سے زائد ایکڑ اراضی اور ایک لاکھ سے زائد آبادی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے ، 8ریلیف کیمپ قائم کردئیے گئے ۔ بھارت نے دریائے توی میں پانی چھوڑدیا،ٹھیکیدارکی ڈریجرمشین بہہ گئی ، محکمہ انہارنے ٹھیکیدارکے کہنے پرمرالہ بیراج کے کچھ سپل ویزاچانک بندکردئیے جوعلاقہ کے زیرآب آنے کاسبب بن سکتے تھے ۔ الہ آباد کے نواحی سرحدی گاؤں عطر سنگھ کے مقام پر دریائے ستلج سے نوجوان کی تیرتی نعش بر آمد ہوگئی، نوجوان کے لباس کا ڈیزائن انڈین تھا اور جیب سے انڈین کرنسی کے 10 روپے بھی بر آمد ہوئے ، عمر تقریباََ چالیس سال کے لگ بھگ اور ایک ہفتہ پرانی لگ رہی ہے ۔ قصور میں دریائے ستلج کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی آنا شروع ہوگئی ،آئندہ مزید پانی آنے کے امکانات کے پیش نظرھائی الرٹ تاحال جاری ہے ، سہجرہ لنک روڈ سے کئی دیہات کا رابطہ بحال ہوگیا، گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اس وقت پانی کا بہاؤ 19.20فٹ سے کم ہو کر 19فٹ پر آگیا ہے اور اب 55 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے ، کورکمانڈرلاہورلیفٹیننٹ جنرل ماجداحسان نے قصورمیں سیلاب متاثرہ علاقوں کادورہ کیا، انہوں نے ہیڈسلیمانکی کے قریب سیلاب متاثرہ علاقوں کابھی دورہ کیا اور ریسکیوآپریشن کا جائزہ لیا۔