سرینگر ،لندن ، برمنگھم، واشنگٹن ( 92 نیوزرپورٹ، نیوز ایجنسیاں )مقبوضہ کشمیرنے مودی کے یکطرفہ غاصبانہ اقدامات کو مستردکردیا۔بدترین کرفیوکے باوجود ہزاروں کشمیری ہفتہ کو دوسرے روز بھی سڑکوں پر نکل آئے ۔ قابض فورسز مظلوم کشمیریوں کے جذبہ آزادی کوتمامتر مظالم و بربریت کے باوجود نہ دبا سکیں ۔مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی اور کرفیو کے باوجود کشمیری دن بھر احتجاج کرتے رہے ۔ بھارتی فوج مظاہرین پر قابو نہ پا سکی تو سیدھی فائرنگ کر دی جس سے درجنوں افراد زخمی ہو گئے ،فائرنگ کے باوجود بہادر کشمیریوں کے حوصلے بلند رہے اور وہ دن بھر سڑکوں پر ’’بھارت واپس جاؤ اور بھارتی آئین نا منظور‘‘ کے نعرے لگاتے رہے ۔ مظاہرین نے پاکستان اورآزادکشمیرکے جھنڈے لہرادیئے ۔دوسری طرف زیرحراست 70سے زائد حریت رہنمائوں اور کارکنوں کوآگرہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے ’نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی‘‘ کے اہلکاروں نے مقبوضہ کشمیر کے سابق رکن اسمبلی انجینئر عبدالرشید کو بھی گرفتار کرلیا۔اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی تعداد 9 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے ۔جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے ۔ ٹیلیفون، انٹرنیٹ سروسز بند ہیں، کئی بڑے اخبارات بھی شائع نہیں ہورہے ۔بھارتی انتظامیہ نے پورے کشمیر کو چھانی میں تبدیل کررکھا ہے ۔سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق سمیت تقریباً تمام حریت رہنما گھروں اور تھانوں میں نظر بند ہیں۔ بھارت نواز سیاستدانوں عمر عبداﷲ اور محبوبہ مفتی سمیت 560سے زائد سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ۔ مقبوضہ علاقے کے لوگوں کو بچوں کی غذا اور زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کی وجہ سے اس وقت سخت تکلیف کا سامنا ہے ۔ ادھرمقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلی عمر عبداﷲ کی جماعت نیشنل کانفرنس نے مقبوضہ وادی سے متعلق مودی حکومت کا اقدام بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق نیشنل کانفرنس کے ایم پی اکبر لون اور حسنین مسعودی کی جانب سے بھارتی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور اسے دو یونین میں تقسیم کرنے کا اقدام غیر قانونی ہے ۔ کشمیری وکیل شاکر شبیر کی جانب سے بھی سپریم کورٹ میں مودی حکومت کے اقدام کیخلاف درخواست دائر کی گئی جس میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق صدارتی حکمنامے کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت حکومت کو مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے روکے ۔دریں اثناء برطانیہ میں بھی بھارت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔لندن میں کشمیری اورپاکستانی کمیونٹی نے مودی سرکار کیخلاف مظاہرہ کیا،بریڈفورڈمیں بارش کے باوجودپاکستانی اورکشمیری کمیونٹی کی بڑی تعدادبھارت کیخلاف سراپا احتجاج بنی رہی،مظاہرین میں خواتین اوربچے بھی شامل تھے ۔ برمنگھم میں بھارتی قونصلیٹ کے سامنے کشمیری اور پاکستانی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہر ین نے بھارتی دہشتگردی کیخلاف شدید نعرہ بازی کی۔ مظاہرے سے ممبر آف پارلیمنٹ خالد محمداور سابق ممبرآف پارلیمنٹ جارج گیلوے نے خطاب کیا اور بھارتی حکومت کے غیر قانونی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔ مقررین نے کہا امن کے راستے میں بھارت رکاوٹ ہے ۔ اقوام متحدہ کو نوٹس لینا چاہئے ۔ برطانوی حکومت کو خطے کے امن کیلئے کردار ادا کرنا چاہئے ۔ مودی انسانیت کا دشمن ہے ، اسے دہشت گرد قرار دیا جائے اور بھارت کیساتھ سفارتی تعلقات ختم کیے جائیں۔ادھر وائٹ ہائوس کے باہرکشمیری و پاکستانی کمیونٹی نے مظاہرہ کیا۔مظاہرے میں بچوں اورخواتین کی بھی بڑی تعدادشریک ہوئی،مظاہرے میں امریکی شہری اورتنظیموں کے عہدیدارشریک ہوئے ۔مظاہرین نے سرخ کپڑے پہن کر کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کیا۔مظاہرین نے بھارت مخالف بینرزاٹھارکھے تھے اور بھارت کیخلاف اورکشمیرکی آزادی کے حق میں نعرے بازی کی۔مظاہرے میں سکھ کمیونٹی بھی جوش و خروش کیساتھ شریک ہوئی۔سکھ مظاہرین کا کہناتھا کشمیرکیساتھ خالصتان بھی آزادی حاصل کریگا۔مظاہرے میں شریک امریکی خاتون کشمیرپربھارتی مظالم کا ذکر کرتے ہوئے روپڑی۔