اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر و گلگت بلتستان کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت بڑی تیزی سے آرٹیکل 370اور 35اے کے خاتمہ کے بعد کشمیر میں ہندو آبادکاری کرنے کے عمل میں پیش پیش ہے ،ایک ماہ میں پانچ ہزار ہندو طلبا کو کشمیر ڈومیسائل جاری کر دیے گئے جبکہ ریٹائرڈ بھارتی فوجیوں کو بھی کشمیر میں آباد کرنے کے لیے زمینوں کی الاٹمنٹ کرنے کے لیے لسٹیں بنائی جانے لگی ہیں،جموں کشمیر سے لاکھوں افراد جو پاکستان کی جانب ہجرت کر آئے تھے انکی زمینیں آباد کاروں کو آلاٹ کرنے کا قومی امکان ہے ۔ حکومت نے کمیٹی کو بتایا کہ کشمیر لبریشن فرنٹ سیل کا نام اب جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سیل کر دیا گیا ہے ۔ اجلاس رانا شمیم احمد خان کی زیر صدارت شروع ہوا۔ ایم این اے یعقوب شیخ نے کہا کہ ہمارے مشن کو متحرک کیا جائے کیونکہ کشمیر میں اب صورتحال بہت گھمبیر ہے ۔ سیکرٹری کشمیر و گلگت وزارت نے کمیٹی کو بتایا لائن اف کنٹرول میں فرسٹ پیکج تین ارب کا دیدیا گیا جس سے وہاں کے لوگوں کی تکالیف کم ہو نگی۔علاوہ ازیں جہاں جہاں کشمیر کی پراپرٹی ہیں وہاں کی لسٹ بنائی جا رہی ہیں لاہور لنڈہ بازار میں بہت پراپرٹی ہیں۔ کشمیر لبریشن فرنٹ سیل کے سیکرٹری نے بتایااب مذکورہ آرٹیکل ختم کرنے سے بھارت لداخ اور کشمیر میں بھارتی آئین کے ساتھ چڑھ دوڑا ہے ،1947ء سے 2011ئتک اڑھائی لاکھ افراد کو شہید کر دیا گیا۔ 2011ء سے اب تک ایک لاکھ افراد کو شہید کیا گیا تاکہ ہندو آبادی کو بڑھایا جائے ،اب ان کا پلان ہے انڈین کو زیادہ سے زیادہ بسایا جائے ،5ہزار بچوں کی فیملیز کو جموں وکشمیر میں بسانے کا پروگرام ہے اور انکے ڈومیسائل بھی بنا دیئے گئے ہیں، دوسرا سب سے بڑا جو شب خون مارا گیا اس سے کوئی بھی بھارتی الیکشن لڑ سکتا ہے ،کشمیری جو دوسرے ممالک میں ہیں انکی تعداد پندرہ سے بیس لاکھ ہے انکے ذریعہ انڈیا کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔