جنیوا(ایجنسیاں ،نیٹ نیوز) مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ہیومن رائٹس کونسل کے غیرمعمولی اجلاس میں 50 سے زائد ممالک نے مقبوضہ کشمیر پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بھارت کے سامنے 5 مطالبات پیش کئے ہیں۔مشترکہ اعلامیے میں پہلا مطالبہ ہے کیا گیا ہے کہ بھارت کشمیریوں سے جینے کا حق نہ چھینے اور انہیں جینے دیا جائے ، دوسرے مطالبے میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں کرفیو فوری طور پر ختم کیا جائے ،تیسرے مطالبے میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا کشمیر میں مواصلات کے کریک ڈاؤن کی تصدیق کرچکا اور کشمیر میں مواصلات کو یقینی بنایا جائے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے ،چوتھے مطالبے میں کئی ذیلی مطالبات رکھے گئے ہیں جن کے تحت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کا تحفظ، آزادی اور گرفتار افراد کو رہا کرنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ گن سمیت طاقت کے بے جا استعمال سے گریز کیا جائے ، بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دورے کی اجازت دی جائے ۔ پانچواں اور اہم مطالبہ یہ کہتا ہے کہ جموں و کشمیر کے حل کیلئے پرامن طریقہ کار اختیار کیا جائے ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے اور کشمیریوں کے لیے بہت اہم ہے ، دنیا بھرسے آئے مندوبین کے سامنے کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیا اور مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی کوششوں سے 50 سے زائد ممالک نے ایک مشترکہ بیان دیا ،وزیر خارجہ نے بھارتی مظالم کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا گیا ، عالمی برادری بھارتی مظالم ،قتل عام رکوانے کیلئے کردار ادا کرے ،گزشتہ چھ ہفتوں سے کشمیری حریت رہنما نظر بند ہیں،کشمیر کی صورتحال بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ،بھارت، کشمیر میں بنیادی ، ناقابل تنسیخ انسانی حقوق کو روند رہا ہے ،بھارتی اقدامات سے خطے میں سلامتی کو خطرہ ہے ،بھارت عالمی توجہ ہٹانے کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے ۔عالمی ادارہ بے گناہ کشمیریوں کیخلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے اقدامات کرے ، اس تناظر میں انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے ،بھارت، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمشنر کے دفتر کو اجازت دے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کریں اور ان سے متعلق رپورٹ سے مستقل بنیادوں پر کونسل کو آگاہ کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ظلم وبربریت کی شدت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے ،سات لاکھ فوج کی تعداد بڑھ کر دس لاکھ تک جاپہنچی ہے ،صدرصاحب آخر کس مقصد کے لئے ؟جواب واضح ہے ان حالات وواقعات نے ایک ملک کا اصل کردار بے نقاب کرکے رکھ دیا ہے جو خود کو جمہوریت، سکیولرازم کا گڑھ بتانے کا ڈھونگ رچاتا ہے ۔، بی بی سی اور دی انڈیپنڈنٹ نے رپورٹوں میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے کشمیریوں پر تشدد کی بھیانک تفصیل دنیا کے سامنے پیش کی ہے ، یہ ’’دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کا حقیقی چہرہ ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر پاکستان نے 115 صفحات پر مشتمل ڈوزیئر انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں پیش کیا ۔وزیر خارجہ او آئی سی گروپ کے سفراء سے ملاقات کی جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکطرفہ طور پر کئے گئے بھارتی اقدامات اور ان کے مضمرات پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر خارجہ نے جنیوا میں اقوام متحدہ میں سینیگال کے مستقل مندوب اور اقوام متحدہ، ہیومن رائٹس کونسل کے صدر ایمبیسیڈر کولے سیک سے خصوصی ملاقات کی اورانہیں بھارتی مظالم سے آگاہ کیا ۔صدر ہیومن رائٹس کونسل نے کہا کہ پوری دنیا اس ساری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔ شاہ محمود نے سول سوسائٹی کی جانب سے ’’کشمیر محاصرے میں‘‘کے عنوان سے مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بین الاقوامی میڈیا ،سول سوسائٹی آرگنائزیشنز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی۔سوئس ٹی وی کو انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ دو جوہری طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آمنے سامنے کھڑی ہیں اور خطہ کی امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہے اور اس سلسلہ میں امریکی صدر، اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وزیر خارجہ نے کہا کہ قائد اعظم ؒ کے وژن کشمیر ہما ری شہ رگ ہے کی گونج سنا ئی دے رہی ہے بھا رت کے یکطرفہ اقدا ما ت نے خیالی سکو لرازم کا پردہ فاش کر دیا ہے ۔ وزیر خارجہ نے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر سے ملاقات کی اور انہیں مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے آگاہ کیا۔