وزیر اعظم عمران خان نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر میں علاقائی اور داخلی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ کے بعد کہا ہے کہ ملکی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ وطن عزیز کو اس وقت کورونا کی وبا ، معاشی بحران کے علاوہ سرحدوں پر سنگین صورتحال کا سامنا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے نہ صرف کنٹرول لائن پر بلا اشتعال گولہ باری جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ افغانستان کی سرزمین کو بھی پاکستان میں عدم استحکام کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ بھارتی سکیورٹی فورسز رواں برس میں 1229بار سیز فائر کی خلاف ورزی کر کے 7 نہتے شہریوں کو شہید اور 92کو زخمی کر چکی ہیں۔ بھارت نے پاکستان میں جاسوسی کی غرض سے دو کواڈ کاپٹر داخل کئے جو پاک فوج نے مار گرائے۔ بھارتی خفیہ ادارے افغانستان سے بلوچستان میں دہشت گردوں کو بھی مالی اور عسکری مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ کہنا بجا اور حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان بھارتی ہتھکنڈوں کا بھر پور جواب دے رہا ہے بھارت آگ سے کھیلنے کی کوشش نہ کرے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاک فوج ملکی دفاع کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ خطہ دو جوہری ممالک کی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا بہتر ہو گا عالمی برادری بھارت کے جارحانہ اقدام کا نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کے قابل قبول حل کے لئے کوششیں تیز کرے تاکہ خطہ جوہری جنگ سے محفوظ رہ سکے۔