نیویارک( ویب ڈیسک)ہمیشہ سنا ہے کہ پہلا بچہ سیدھا، دوسرا بے پرواہ اور سب سے چھوٹا سب سے تیز نکلتا ہے ۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ اس بچے کو سب سے لاڈلا بنا دیا جاتا ہے اور اس کے آنے کے بعد گھر میں ہر شرارت اور ہر بے وقوفی قابل قبول ہوجاتی ہے ۔ گھر کے بہت سارے اصول یہی چھوٹا بدل دیتا یا دیتی ہے ۔ بڑے بہن بھائیوں کے لئے اس چھوٹے کے حوالے سے کئی شکایات ہوتی ہیں لیکن وہ خود بھی اس کے سامنے ہار مان ہی لیتے ہیں۔ آخر وہ کیا وجوہات ہیں۔ تحقیق کے مطابق والدین اپنی ساری سختی اور ساری پابندیاں بڑے بچے کو اچھا انسان بنانے میں لگا چکے ہوتے ہیں اور ان کے نزدیک انہوں نے چھوٹے کے لئے ایک ماڈل تیار کردیا ہے جس سے وہ سب کچھ سیکھے گا۔ لیکن والدین خود چھوٹے بچوں کے معاملے میں آکر کافی کچھ سیکھ چکے ہوتے ہیں ۔ انہیں لگتا ہے کہ انہوں نے بڑے کو مثال بنانے میں اتنی زیادہ سختیاں کردیں جو انہیں نہیں کرنی چاہیے تھیں۔ اس چکر میں چھوٹے کو چھوٹ مل جاتی ہے ۔