کھاریاں میں بغیر پھاٹک ریلوے کراسنگ پر کار راولپنڈی سے کراچی جانے والی تیز گام کی زد میں آ گئی، جس سے ماں اپنے دو بچوں سمیت جاں بحق اور ایک بچہ زخمی ہو گیا۔ یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے کہ ٹرین حادثات روز کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔ صرف ایک سال کے دوران ٹرینوں کے درجنوں حادثات ہوئے ہیں جن میں سینکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ایک سال پہلے تک ٹرینوں کے حادثات نہیں ہو رہے تھے بلکہ سابق مسلم لیگی حکومت میں بھی ٹرینوں کے لاتعداد حادثات ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان بڑھتے حادثات کی روک تھام ہونی چاہئے۔ ٹرین کے سفر کو دنیا بھر میں محفوظ ترین سفر سمجھا جاتا ہے اور ہمارے ہاں بھی چار عشرے پہلے تک ریلوے ملک کا بہترین منافع بخش ادارہ رہا ہے۔ ظاہر ہے یہ منافع ٹرین مسافروں کی وجہ سے ہی مل رہا تھا لیکن آج صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ ٹرینوں کی آمدو رفت تاخیر کا شکار اور سفر غیر محفوظ بن چکا ہے۔ متذکرہ حادثہ بھی اس وجہ سے ہواکہ ریلوے کراسنگ پر پھاٹک ہی نہیں تھا۔ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو ریلوے کے وزیر اور دوسرے کارپردازان اسے ڈرائیور یا عملے کی غلطی قرار دے کر اپنی جان چھڑا لیتے ہیں حالانکہ کسی بھی خرابی کا ذمہ دار ادارے کا سربراہ ہی قرار پاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹرینوں کے حادثات پر قابو پایا جائے اور جہاں فنی اور تکنیکی خامیاں موجود ہیں ان کی اصلاح کی جائے تاکہ مستقبل میں انسانی جانیں تلف ہونے اور محکمہ کو خسارے میں جانے سے بچایا جا سکے۔