مقبوضہ بیت المقدس، الخلیل (این این آئی)قابض صہیونی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس میں 'گیلو' یہودی کالونی میں آبادکاروں کیلئے 216 نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے جبکہ قابض اسرائیلی فوج نے حزما کے مقام پر فلسطینی شہریوں کی طرف سے تعمیر کی گئی حفاظتی دیوار مسمار کردی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق القدس بلدیہ نے گیلو یہودی کالونی میں 18 منزلہ دو پلازے تعمیر کرنے کی منظوری دی ہے ۔ ان پلازوں میں 216 رہائشی فلیٹس تعمیر کیے جائیں گے ۔رہائشی فلیٹس کے ساتھ ان پلازوں میں تجارتی مرکز اور بچوں کے لیے ایک پارک بھی تعمیر کیا جائے گا۔ 216 مکانات یہودی آباد کاروں کو بسانے اور ان کی رہائشی ضروریات کے لیے تعمیر کیے جائیں گے ۔خیال رہے کہ فلسطین میں یہودی آباد کاری اقوام متحدہ اور عالمی انسانی قوانین کی جانب سے غیرقانونی قرار دی جا چکی ہے ۔اقوام متحدہ کی کئی ایسی قراردادیں موجود ہیں جن میں اسرائیل سے فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری کے منصوبوں پرپابندی عاید کرنے پرزور دیا ہے ۔ ادھر مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ قا بض فوج نے بھاری مشینری کی مدد سے جنوبی حزما میں طبلاس کالونی میں تعمیر کی گئی حفاظتی دیوار مسمار کرڈالی۔ صہیونی حکام کا کہنا تھاکہ یہ دیوار اسرائیلی بلدیہ کی اجازت کے بغیر تعمیر کی گئی تھی جب کہ فلسطینی شہریوں کا موقف ہے کہ یہ دیوار یہودی آباد کاروں کے حملوں سے بچائو کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔ دیواردائود عدوان نامی شہری کی ملکیت تھی جو 700 مربع میٹر پر تعمیر کی گئی تھی۔ ادھر اسرائیلی فوج کی بھاری نفری نے غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل میں حلحول کے مقام پر قائم ایک پرنٹنگ پریس پر چھاپہ مارا اور وہاں پرموجود چھپائی کی مشینیں اور دیگر سامان غصب کرلیا۔ اس موقع پر فلسطینی شہریوں نے قابض فوج کی کارروائی کے خلاف مزاحمت کی اور صہیونی فوجیوں پر سنگ باری کی۔ قابض فوج نے فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ان پر لاٹھیاں چلائیں اور آنسوگیس کی شیلنگ اور صوتی بموں کا استعمال کیا۔ اشک آور گیس کی شیلنگ سے مقامی کھیتوں میں آگ بھڑک اٹھی اور فصلیں جل کر راکھ ہوگئیں۔ادھر شمالی الخلیل میں العروب پناہ گزین کیمپ میں بھی اسرائیلی فوجیوں نے چھاپہ مارا اور شہریوں کو زدو کوب کیا۔