وزیر اعظم عمران خان نے درست کہا ہے کہ کشمیر پر جنگ نہیں مذاکرات چاہتے ہیں ، اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے بھی مدد دینے کو تیار ہے۔ یہی وہ کردار ہے جو دنیا میں پاکستان اور عمران خان کا نام روشن کرسکتا ہے۔ عمران خان کو یہی عمل مخالف جماعتوں کے ساتھ بھی اختیار کرنا چاہیے وہ سپورٹس مین ہیں ،کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے ،سیاسی میدان بھی ایک کھیل کی طرح ہے ،ضمنی الیکشن میں جو کشیدگی پیدا ہوئی ہے اُسے ختم کرنے کی ضرورت ہے اور سینیٹ الیکشن سر پر ہیں اس کے لئے بھی ماحول گرم ہے ، خفیہ بیلٹ کے مسئلہ پر حکومت سپریم کورٹ گئی تو اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ اگر آئین خفیہ ووٹنگ کی بات کرتا ہے تو بات ختم ،سیکریٹ بیلٹ کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی ۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی بات میں بھی اس بات کا اشارہ ہے کہ سپریم کورٹ کومضبوط ہونا چاہیے اور جس مقصد کے لئے حکومت عدالت کا دروازہ کا کھٹکھٹایا ہے یہ کام عدالت کا نہیں بلکہ اسمبلی کا ہے۔ سیاسی رسہ کشی سے ملک وقوم کو ڈھائی سالوں میں بہت نقصان ہو چکا اب حکومت بقیہ وقت دل توڑنے نہیں بلکہ جوڑنے کے لئے صرف کرے۔کشیدگی کم نہ ہوئی تو اپوزیشن کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ بھارت سے مذاکرات ہو سکتے ہیں اپوزیشن سے کیوں نہیں؟ ملک کے حالات اچھے نہیں ہیں دہشت گردی پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جاسکا ، وزیرستان اور بلوچستان سے دہشت گردی کے واقعات کی خبریں آئے روز آ رہی ہیں ، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرنل بابر افتخار نے درست کہاہے کہ افغانستان کی معرفت پاکستان میں دہشت گردی کا عمل جاری ہے ،بھارت شدت پسندوں کو اسلحہ، پیسے اور نئی ٹیکنالوجی دے رہا ہے ۔ انہوں نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر بھی اظہار خیال کیا اور خوشخبری دی کہ مسئلہ جلد حل ہو گا۔ بلاشبہ اس مسئلے کے حل کی فوری ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا پر لا پتہ افراد کے لواحقین کی چیخ و پکار اور فریاد پتھر دل انسانوں کو بھی ہلاکر رکھ دیتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وزیر اعظم پشتون قبائل سے ہمدردی رکھتے ہیں مگر اصل ہمدردی یہ ہے کہ ان قبائل کو شدت پسندی سے چھٹکارا دلائیں، ان میں انسان دوستی کے جذبات پیدا ہوں اوران علاقوں میںتہذیب ثقافت اور معیشت کی اس طرح آبیاری کی جائے کہ یہ لوگ کسی مخالف قوت کے آلہ کار نہ بنیں ، اب تک جو صورتحال موجود ہے اس سے دل بہت دکھتا ہے اور وسیب کے لوگ اس صورتحال سے سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں کہ یہ وسیب کے مرکز ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک سے ملحقہ علاقے ہیں ۔ تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو وزیر قبائل صوبہ سرحد کا ایک بڑا پشتون قبیلہ ہے جس کی تعداد تقریباً دس لاکھ ہے۔ یہ قبیلہ دریائے سندھ کے مغرب میں واقع کوہستانی علاقے میں آباد ہے۔ شمال میں تل سے لے کر جنو ب میں درئہ گومل تک پھیلا ہوا ہے۔ وزیرکرلان یا کڑرانی نسل سے ہیں۔ ان کا شجرئہ نصب یوں ہے وزیر بن سلیمان بن گکے بن کرلان۔وزیر کے تین بیٹے تھے، محمود، مبارک اور موسیٰ درویش۔ محمود کی اولاد محسود قبائل ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب انتہا پسند ی کا دور شروع نہیں ہوا تھا تو یہاں بسنے والے درویش صفت لوگ تھے اور انسان دوست تھے ، اچھے برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں مگر اکثریت اچھے لوگوں کی تھی ۔ ان میں سے اب بھی بہت سے لوگ صوفیاء کی انسان دوستی والی تعلیمات کو مانتے ہیں ، ضیاء الحق دور سے مذہبی انتہا پسندی کا جو سلسلہ شروع ہوا اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے اور ہماری سکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں سے ارض پاک کو صاف کرنے کے ساتھ ساتھ دل جیتنے کے لئے اقدامات بھی کرنے ہوں گے ۔ قبائلی علاقوں میں ظلم کا راج ختم نہیں ہوا۔ المناک خبر کے مطابق خواتین کی تنظیم ’’وومن امپاورمنٹ‘‘ کے تحت شمالی وزیرستان میں گھریلو خواتین کو سلائی کڑھائی کی تربیت دینے والی 4 خواتین کو گزشتہ روز تنظیم کے تحت قائم ایک مرکز کے باہر اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ اپنے گھروں سے مرکز پہنچی تھیں۔ ایک ہی گاڑی میں آنے والی پانچوں خاتون حملہ سے قبل گاڑی سے اتر کرمرکز کے اندر داخل ہو چکی تھیں۔کہاجاتا ہے کہ مقتولہ خواتین بنوں سے شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے مختلف دیہاتوں میں قائم مراکز جاتی تھیںاطلاعات کے مطابق دہشت گردی کی واردات تحصیل میر علی کے گائوں ایپی میں ہوئی ،بعض ذرائع یہ بھی کہتے ہیںکہ حملہ آور دس افراد کو اغواء کر کے ساتھ لے گئے ۔ چار مقتولہ خواتین میں سے تین شادی شدہ تھیں۔ مرنے والیوں میں ارشاد بی بی اور عائشہ سگی بہنیں تھیں۔ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والی چار میں سے تین شادی شدہ خواتین کی ایک ایک بیٹی ہے۔ یہ واقعہ افسوسناک ہے اور ان واقعات کا تسلسل ہے جوکہ خواتین کے ساتھ پہلے سے ہوتا آ رہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ڈی آئی خان کے علاقے گرہ مٹہ میں ایک دوشیزہ کو بے لباس کر کے گاؤں میں پھِرایا گیا ، آج تک متاثرین کو انصاف نہیں ملا ۔ کہاں گئی عمران خان کی ماڈل پولیس اور کہاں ہے خود عمران خان اور اس کا وزیراعلیٰ ؟ مولانافضل الرحمن کرسی اور اقتدار کے لئے تو تحریکیں چلاتے ہیں کیا مولانا پر لازم نہ تھا کہ وہ اس واقعے کی مذمت کرتے ؟ سفاک ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ۔ مولانا اور دیگر کو نقیب اللہ محسود یاد تھے مظلوم خوتین کیوں یاد نہیں ؟ جو جبر مسلسل کی طرح حیاتی لمحات گن گن کر جی رہی ہیں ۔ٹانک کے سرائیکی رہنما حاجی عبدالغفور دمانی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن اور دوسرے الیکشن کے موقع پرتو ڈیرہ اسماعیل خان اورٹانک میں سرائیکی صوبے کا نعرہ لگاتے ہیں مگر جونہی الیکشن کمپین ختم ہوتی ہے رات گئی بات گئی والا معاملہ ہو جاتا ہے۔ ان کا بھی کہنا ہے کہ ڈیرہ اور ٹانک کے عوام پر جتنے عذاب نازل ہو رہے ہیں ‘ یہ انہی کے دیئے ہوئے تحفے ہیں۔لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ وسیب کے نادان سیاستدانوں کو ان باتوں کا علم نہیں ۔ ہماری بد قسمتی کہ ہمارے جو رہنما بنے ہوئے ہیں‘ انہیں جب راستے کا خود علم نہیں‘ وہ دوسروں کو کیا بتائیں گے ؟ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ نگاہ بلند‘ سخن دلنواز اور جاں پرسوز ، یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کیلئے ۔ رہبری کے جو تین اصول بتائے بد قسمتی سے نہ نگاہ بلند ہے ‘ نہ سخن دلنواز ہے اور نہ جاں پرسوز ہے ‘ اس لئے عوام ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ۔ دو صدیاں تو بیت گئیں ، نہ جانے ابھی کتنی سزا باقی ہے؟