کسی بھی ملک میں زرعی تحقیق یا زرعی تحقیقاتی اداروں کے قیام کا بنیادی مقصد فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوتاہے تاکہ ناصرف بڑھتی ہو ئی آبادی کے لئے خوراک کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے بلکہ کسانوں کے لئے فصلوں کی پیدائش اور فروخت سے زیادہ منافع کوبھی ۔ چنانچہ زرعی شعبے میں اعلیٰ پیداوار کے حصول کے لیے جینیاتی طور پر خالص اور اعلیٰ معیار کے بیج ناگزیر ہوتے ہیں۔مگر پاکستان میںزرعی تحقیقاتی ادارں کی جانب سے فصلوں کی متعدد اقسام کے متعارف کروائے جانے کے باوجود، ہم زرعی شعبہ کی پوری صلاحیت سے فائدہ اُٹھانے میں ناکام ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم آج تک اپنی ضرورت کے مطابق معیاری بیج ہی پیدا نہیں کر سکے ۔ حالیہ اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں تمام فصلوں کے ضمن میں سرٹیفائیڈ بیج کی کل دستیابی صرف 37فیصد ہے ۔ پاکستان میں بیج کی صنعت کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ عالمی معیارات کے مقابلے میں ہماری پیداواری صلاحیت میں فرق کی بنیادی وجہ صرف معیاری بیجوں کی ناکافی دستیابی ہی نہیں بلکہ موجودہ ریگولیٹری ڈھانچے میںمیں موجودکئی ایک مسائل بھی ہیں ۔ بیج کی مختلف اقسام کی منظوری اور اجراء کے ضمن میںموجودہ ریگولیٹری عمل میں متعدد اقدامات کی موجودگی اور متعدد سرکاری اداروں کی شمولیت،اس عمل میں نمایاں تاخیر کا سبب بنتی ہے۔مزید برآں یہ طریقہ کار اضافی اخراجات کا وسیلہ بھی ہے۔ جس کی وجہ سے زراعت کے شعبہ اور بیج کی منڈی دونوں کی ترقی اور ممکنہ فوائد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ بیج کی نئی قسم کی منظوری کے لیے بیوروکریٹک طریقہ کار نہ صرف معیاری بیج کی دستیابی میں رکاوٹ بن رہا ہے بلکہ مارکیٹ میں کم معیار ی اور غیر رجسٹرڈ مصنوعات کی سہولت کاری بھی کر رہا ہے۔ حد سے زیادہ ضابطوں کی وجہ سے نجی شعبہ بیج کے شعبے میں تحقیقاتی مقاصد کی غرض سے سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں ہے۔ یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ حکومت فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ FSC&RD پر سالانہ 800 ملین سے زیادہ خرچ کر رہی ہے لیکن اتنے بڑے سرمایے کے خرچ اور سرٹیفیکیشن سے مارکیٹ پر کوئی مثبت اثرات مرتب نہیں ہو رہے ۔ ۔ لہٰذا، مرکزی طور پر منظم قسم کی منظوری کے نظام سے بیج کے شعبے کو آزاد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ نجی شعبہ بیج کی صنعت میں ایک فعال کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے ۔ مگر بیج کی منظوری حاصل کرنے کے طریقہ کار کی وجہ سے گریزاں ہے۔ کیونکہ FSC&RD منظوری کے لیے پیش کی گئی نئی اقسام کے ٹرائلز کے لیے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (NARC) کی خدمات حاصل کرتا ہے۔ دوسری جانب، NARC خود مختلف فصلوں کی نئی اقسام کی پر تحقیق میں مصروف ہے اور نئی اقسام کو متعارف بھی کروا رہا ہے۔چنانچہ نجی شعبہ کی جانب سے پیش کی گئی نئی اقسام کومنظوری حاصل کرنے کے لیے، اپنے ہی حریفوں کے ہاتھوں سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ منطقی طور پردرست نہیں ہے۔یوں یہ طریقہ کار مفادات کا ٹکراؤ کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے نجی شعبہ اس ضمن میں بھاری سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں ہے۔ مزیدبرآں نجی شعبے کا موقف ہے کہ FSC&RD میں بیج کی جانچ ایک طویل عمل ہے جو عمومی طور پر تین سال کے عرصہ پر محیط ہو تا ہے ، سرٹیفیکیشن کا یہ عمل بیج کے کاروبار میں کوئی اہمیت اور کشش نہیں رکھتا ۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار کمپنیاںFSC&RD سے کسی بھی قسم کی منظوری یا اجازت کے بغیر ہی مارکیٹ میں بیج کا کاروبار شروع کر دیتی ہیں۔ غیر رسمی (بغیر کسی رجسٹریشن کے) بیج فراہم کرنے والی کمپنیوں کی ایک بڑی تعداد میں موجودگی، اس بات کی نشاندہی کررہی ہے کہ ریگولیٹر کسانوں کو اعلیٰ معیار کے تصدیق شدہ بیج فراہم کرنے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ دو دہائیوں سے کوئی بھی نئی بین الاقوامی کمپنی پاکستان میں نہیں آئی ۔وہی پانچ بڑی کمپنیاں آج بھی کام کر رہی ہیں جوکبھی ماضی میں بیج کی پیداوار کے ساتھ ساتھ پاکستان سے بیج کو برآمد بھی کر رہی تھیںمگر ان ضوابط اور ان سے جڑی ہو ئی کمزوریوں کی وجہ سے بیج پر تحقیق سے کلی طور پر دستبردار ہو چکی ہیں ۔ پاکستان میں تصدیق شدہ بیج کی تیاری کا عمل صوبائی سیڈ کارپوریشنز کی نگرانی میں سر انجام دیا جاتا ہے ۔ بیج کی مارکیٹنگ اوراس میں اضافے (multiplication) کے لیے صوبائی سیڈ کارپوریشنز ان بیجوں کو نجی شعبے کے حوالے کرتی ہیں۔دراصل سیڈ کارپوریشنز کی محدود استعداد کا ر،بڑے پیمانے پرسرٹیفائیڈ بیج کی پیداوار میں رکاوٹ ثابت ہو ئی۔ ان سبھی مسائل کے حل کے لیے بیج کی نگرانی ،منظوری اور اجراء کے مکمل نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے امریکہ کا ماڈل کافی موئثر ثابت ہو سکتاہے ،جہاں بیج کی کمپنیاں اپنے برانڈ کے نام اور مناسب لیبلنگ کے ساتھ کوئی بھی بیج فروخت کر سکتی ہیں۔ FSC&RD کومضبوط نگرانی کے نظام کے زریعے یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ مارکیٹ میں موجود تمام بیجوں پر لیبل صحیح طور پرآویزاںہوں۔ بیجوں کی تصدیق کے عمل کو نجی کمپنیوں کے لئے رضاکارانہ کیا جائے لیکن نگرانی کے مضبوط نظام کے ذریعے مارکیٹ پر گہری نظر رکھیں تاکہ مارکیٹ میں بغیر لیبل والا اور کم معیار ی بیج فروخت نہ ہو۔ FSC&RD کا کردار صرف رجسٹرڈ فرموں کے اندراج تک محدود ہو۔ بیج کی فروخت کی اجازت کو ضمانتی بانڈز سے منسلک کیا جائے جس کا اجراء مقامی بنکوں کے زریعے ہو۔ ضمانتی بانڈ کی رقم اس وقت بنک کی ملکیت ہو گی جب تک کمپنی کی رجسٹریشن کسی وجہ سے منسوخ نہیں کر دی جاتی ۔ لیبل پر درج شدہ خصوصیات بیج میں موجود نہ ہونے کی صورت میں شکائیت کسی بھی کسان کی جانب سے درج کروائی جا سکتی ہے ۔ اس صورت میں کسان کے نقصان کا ازالہ ضمانتی بانڈ کی مد میں جمع کروائی گئی رقم سے کیا جائے اور کمپنی کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے ۔ شکایت کے غلط ثابت ہونے کی صورت میں پورے عمل پر صرف ہونیوالے اخراجات کا خمیازہ شکائیت کنندہ پر ڈالا جائے ۔ بیج کی پیداوار کے کاروبار میں پبلک سیکٹر کی شمولیت اور قیمتوں کے ضابطے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس (IPR) کے نظام کو تیز تر، صاف ستھرا اور جائز بنانے کی ضرورت ہے ۔ اسے FSC&RD کے زیر نگرانی نجی شعبے کی معاونت سے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ IPRکے حوالے سے اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے بائیو سیفٹی کے نظام، آلات، جینز اور ٹرانسجینک اقسام کی نشوونما میں استعمال ہونے والے طریقہ کار کے بارے میں علم اور مہارت رکھنے والی خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی ضرورت ہے یا موجودہ عدالتوں کو متعلقہ ماہرین سے مشاورت کرنی چاہیے۔