لاہور (رانا عظیم )لاہور سمیت پنجاب بھر کے بڑے شہروں میں بنے ہوئے پلازوں میں سے 70فیصد پلازے غیر قانونی ہونے کے انکشافات ،پلازوں کی غیر قانونی تعمیرات میں سابق حکومت کی با اثر شخصیات اور سرکاری اداروں کے ذمہ داران کے ملوث ہونے کے بھی شواہد مل گئے ۔ لاہور میں 4 سابقہ حکومت کی اہم ترین شخصیات 6 بڑے تگڑے بیوروکریٹس کی ایما پر غیر قانونی تعمیرات کی اجاز ت دی گئی جب کہ اسی طرح دیگر شہروں گوجرانوالہ ، راولپنڈی ، فیصل آ با د، گجرات ، ساہیوال ، اوکاڑہ ، رحیم یار خان ، شیخوپورہ اور دیگر شہروں میں بھی سابقہ حکومت کے اراکین اسمبلی اور وزرا غیر قانونی تعمیرات میں مکمل طور پر ملوث رہے ۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے بننے والی ایک رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ 70 فیصد ایسے پلازے موجود ہیں جن کے نقشے نہ تو پاس کروائے گئے ہیں اور جو پلازے تعمیر ہوئے ہیں وہ نقشوں کے مطابق بھی نہیں جبکہ ان 70 فیصد پلازوں میں سے 30 فیصد ایسے پلازے بھی ہیں جن کے مالکان کے پاس جعلی این او سی ہیں جب کہ 45فیصد ایسے پلازے ہیں جنہوں نے پارکنگ تک کی جگہ کمرشل کر کے فروخت کر دی ہے جب کہ پورے پنجاب میں 90فیصد پارکنگ پلازوں میں تو آگ بجھانے والے آلات نہیں ہیں۔ رپورٹ میں لاہور کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ اندرون شہر سمیت لاہور کے دیگر معروف علاقوں میں پلازوں کی تعمیر کیلئے باقاعدہ سابق حکمران خاندان کے چشم و چراغ کے کار خاص پلازے کے مالکان سے بھاری رقوم لیکر اس کے بعد اس کی تعمیر شروع کرانے دیتے تھے ۔رپورٹ میں اندرون شہر میں سو سے زیادہ ایسے پلازوں کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے کہ ان پلازوں کی تعمیر جو کہ مکمل طور پر غیر قانونی تھی اس کا این او سی سرکاری سطح پر ملنے کے بجائے سابقہ حکومت کی ایک اہم شخصیت کے زبا نی احکامات پر جاری کیا جاتا تھا اور سابق حکومت کی اہم ترین شخصیت کے بیٹے کے چار کار خاص باقاعدہ متعلقہ ٹاؤن کی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت دیکر کسی بھی پلازے کی تعمیر رکوا دیتے اور پھر پارٹی فنڈز کے نام پر کروڑوں روپے وصول کر کے اہم شخصیت کو پہنچائے جاتے پھر وہاں پلازے کی تعمیر کی اجاز ت ہوتی ۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تجاوزات کے خلاف آ پریشن کے دوران جب ایسے کئی پلازوں جو سرکاری جگہ اپنے پلازوں میں شامل کر چکے تھے ان کے خلاف کارروائی شروع ہوئی تو انہوں نے بر ملا سابقہ حکومت کی اہم شخصیات کے نام لیکر بتایا کہ ہم نے تو ان کو رقوم دی ہیں جس کے بعد یہ سلسلہ شروع کیا گیا ہے ۔لاہور میں اندرون شہر ہال روڈ مال روڈ ، گلبرگ ، ماڈل ٹاون ، اور گارڈن ٹاون کے علاقو ں میں تعمیرات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس میں شریف خاندان کی اہم ترین شخصیت براہ راست ملوث ہوتی تھیں اور اس کی اجازت کے بعد نہ صرف تعمیرات شروع ہوتی تھیں بلکہ اس کو روکنے والا سرکاری عملہ باقاعدہ محا فظ بن جاتا تھا ۔