حکمران جماعت کے بعض رہنما اس بات پر برہم ہیں کہ وزیر اعظم کی جنرل اسمبلی والی تقریر پر جسے وہ تاریخی اور تاریخ ساز قرار دے رہے ہیں، اپوزیشن کے کچھ لوگ تنقید کیوں کر رہے ہیں! تنقید کہاں ہے؟ ہاں کچھ قسم کے سوالات ہیں، وہ بھی چند ایک۔ اپوزیشن اور میڈیا کے بعض حلقے ان کا جواب مانگتے ہیں۔ حکمران جماعت اور دیگر محب وطن حلقے چاہیں تو جواب دے دیں چاہیں تو نہ دیں، برہمی اور پریشانی کی کچھ ایسی خاص ضرورت نہیں۔ یہی کہ وزیر اعظم نے خطاب میں اس متنازعہ اقدام کا سوال کیوں نہیں اٹھایا جس کے تحت بھارت نے مقبوضہ وادی کی آئینی حیثیت ختم کر دی، مسئلہ فلسطین کا ذکر کیوں نہیں کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے عالمی برادری کو یہ دعوت عام کیوں دی کہ وہ خود آ کر پاکستان میں دیکھ لے کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک ہیں یا نہیں۔ ایسی ہی ایک دعوت انہوں نے چند روز پہلے بھارت کو بھی دی تھی۔اس دعوت سے پاکستان عالمی خفیہ اداروں کی چراگاہ نہیں بن جائے گا؟ جیسا کہ مشرف نے امریکہ سے بلیک واٹر کو منگا کر بنایا تھا اور جس کی وجہ سے سارا ملک کالا پانی بن گیا تھا؟ کیا یہ خان صاحب کی زبان حسب عادت پھسل گئی تھی یا پھر مشرف کی رشد و ہدایت کا پرتو جھلک اٹھا تھا؟ اور پھر مودی کو یہ کہہ کر ڈرانے کی کیا ضرورت تھی کہ کرفیو اٹھا یا توخون خرابہ ہو گا۔ ٭٭٭٭٭ تقریر پر تنقید اپنی جگہ لیکن تقریر کی اہمیت نہیں ہوتی۔ ماضی میں بھٹو مرحوم، بے نظیر شہید، نواز شریف اور بیچ میں جنرل ضیاء الحق مرحوم اچھی تقریریں کر چکے(باری باری سب کے کلپ سن لیجئے، ہاتھ کنگن کو آرسی کیا) عارضی وزیر اعظم شاہد خان عباسی کے خطاب کے بارے میں کیا خیال ہے۔ اب سب کی تقریریں جذبات و دلائل، منطق اور سفارتی فہم کا مرکب تھیں۔ خان صاحب کی تقریر بلاشبہ رواں دواں تھی لیکن باقی صفات سے ’’منزہ‘‘ تھی۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ ان تقریروں سے بھی کوئی نتیجے برآمد نہیں ہوئے۔ جنرل اسمبلی میں تقریر شاہکار ہو، بے کار، غیر اہم ہوتی ہے۔ اہمیت البتہ وزیر اعظم کے باقی دورے کی تھی، امریکی صدر ٹرمپ اور دیگر عالمی قیادت سے ملاقاتوں کی تھی۔ فرما دیجئے ان کا کیا بنا؟ عالمی برادری ہماری صدا کو بصحرا کرنے پر تلی کیوں نظر آتی ہے؟ کہتے ہیں کہ کشمیر اجاگر ہوا۔ کہاں؟ ٭٭٭٭٭ بہرحال، محب وطن حلقے تقریر کو تعریفوں کی سان پر چڑھائے جا رہے ہیں۔ کئی نے لکھا ہے کہ تقریر نے تاریخ بنا دی۔ یہ تو کمال ہو گیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ بننے والی تاریخ کا حدود اربعہ کہاں ہے اور جائے وقوعہ کہاں ہے۔ ایک بزرگوار نے یہ کہہ کر اپنے حصے سے زیادہ ہی حق ادا فرما دیا کہ خان صاحب کی تقریر سے عالمی دارالحکومتوں پر سکتہ طاری ہے۔ ارے کوئی ان دارالحکومتوں کو بھی خبر کر دو کہ تم پر سکتہ طاری ہو گیا ہے، کچھ کرو کہیں سکتہ نوحے میں نہ بدل جائے، برین ہیمبرج ہی نہ ہو جائے۔ لیکن یہ بتانے سے پہلے ان دارالحکومتوں کا سراغ لگانا ضروری ہے کہ وہ آخر کہاں واقعہ ہیں؟ ٭٭٭٭٭ وطن واپسی پر فرمایا کہ کشمیریوں کا ساتھ دینا جہاد ہے۔ تو کہئے، یہ جہاد کب ہو گا؟ واپسی پر جو استقبال ہوا، ایک محب وطن سرخی نگار نے اس پر سرخی جمائی کہ فقید المثال ہوا۔ سارا استقبال ایئرپورٹ کے ارائیول ہال کی چھت کے نیچے سمٹا ہوا تھا۔ ہال سے باہر کچھ نہ تھا۔ نہ فقید نظر آیا نہ المثال،بہر حال، اپنے حصے کا حق ان محب وطن نے کچھ زیادہ ہی ادا کر دیا، صاحب استقبال بھی مسکرا اٹھے ہونگے۔ ٭٭٭٭٭ وفاقی وزارت خزانہ نے رپورٹ تیار کی ہے کہ بڑھتے ہوئے قرضوں اور مالیاتی خسارے کی وجہ سے ملک کی اقتصادی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔ رپورٹ کی خبر دینے والے وقائع نگار نے لکھا کہ معیشت بند گلی میں پہنچ گئی ہے۔ بند گلی سے بچنے یا نکلنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے یو ٹرن لیکن یہاں تو خدشہ یہ لگتا ہے کہ واپس ہونے پر کہیں وہ دروازہ بھی بند نہ ملے جس سے آئے تھے۔ اب سوال معیشت کو بحال کرنے سے بڑھ کر یہ ہو گیا ہے کہ اسے مزید بگڑنے سے کیسے بچایا جائے۔ چند ہفتے یا شاید دو اڑھائی مہینے پہلے ایک مرحوم بزرگ کے چکنے چکنے پوتے نے دعویٰ کیا تھا کہ بجلی کے گردشی قرضوں میں کمی لا رہے ہیں اور بجلی چوری تو ہم نے ختم ہی کر دی ہے لیکن کل ہی حکومت کے ایک حامی اخبار کی نمایاں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بجلی چوری ختم تو کیا، کم بھی نہیں ہوئی جوں کی توں ہے اور گردشی خسارے میں 5کھرب 25ارب روپے کا (قیامت خیز) اضافہ ہو گیا ہے۔ مزید لکھا ہے کہ بجلی کے میٹرز کے ذریعے عوام پر اضافی یونٹ ڈال دیئے گئے ع ایسے ’’قابل‘‘ کو کیا کہے کوئی ٭٭٭٭٭ معیشت سکتے میں ہے یا سسکیاں لے رہی ہے، اس کا اندازہ کرنے میں یہ ننھی منی سی خبر مدد دے سکتی ہے کہ تاریخ میں پہلی بار، پاکستان ایشیائی بنک سے ایک کھرب ڈالر کا، بحرانی قرضہ۔ لے گا۔ بحرانی قرضہ۔ تشریح کے لیے نام ہی کافی ہے۔ حکومت تحریک انصاف کی کم، تحریک بحران کی زیادہ لگتی ہے معاملات تاریخ سازی کے نہیں، سارے کے سارے بحران سازی کے ہیں۔ یہی شہکار ہے میرے ہنر کا۔