نیب نے ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلے کی روشنی میں تاجروں کے مسائل کے حل کیلئے چھ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ حکومت کی معاشی اصلاحات اور ملک سے بدعنوانی کے انسداد کے لئے اقدام پرصنعتکاروں اور تاجر برادری نے وزیراعظم اور آرمی چیف سے ملاقات میں نیب کے ہراساں کرنے کی شکایت کی تھی۔ چیئرمین نیب پہلے ہی یہ واضح کر چکے تھے کہ نیب صرف ایسے کاروباری افراد کے معاملات کی چھان بین کرتا ہے جو سرکاری اہلکاروں کے ساتھ مالی بدعنوانی میں شریک کار ہوں۔ اس کے باوجود نیب مالی بے ضابطگیوں کے معاملات ایف آئی اے اور بنکنگ کورٹ کو منتقل کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے چیئرمین نیب کی طرف سے وضاحت کے باوجود تاجر حضرات نے اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کیااور 29-30 اکتوبر کو دو روزہ ہڑتال اور احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاجر برادری کے تحفظات کو ہی مدنظر رکھتے ہوئے نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے تاجروں کے تحفظات دور کرنے کیلئے چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ چیئرمین نیب نے یہ یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ کمیٹی کی تجاویز پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ نیب کے اس منصفانہ اقدام کے بعد توقع تو یہی کی جارہی ہے کہ تاجر برادری ہڑتال کی کال واپس لے لے گی مگر بعض حلقے تاجر حضرات کی ہڑتال کی وجہ شفافیت کے لیے کاروباری لین دین کے لیے شناختی کارڈ کی شرط اور سیاسی جماعتوں کی ذیلی تاجر تنظیموں کے مخاصمانہ رویہ کو قرار دے ر ہے ہیں۔ بہتر ہو گا تاجر برادری اپوزیشن کے ہاتھوں میں کھیلنے کے بجائے اپنے کاروبار پر توجہ دے تاکہ ملکی معیشت کا پہیہ رواں اور ملک ترقی کر سکے۔