گورنر سندھ سے ملاقات اور ایف بی آر کی یقین دہانی کے بعد کراچی تاجر ایکشن کمیٹی نے مہنگائی اور ٹیکسوں کی بھر مار کے خلاف تین روزہ ہڑتال کی کال واپس لے لی ہے۔پاکستان میں1800ارب کی ٹیکس چوری کا ذمہ دار حکومتی اہلکاروں اور ٹیکس دھندگان کی ملی بھگت کو قرار دیا جاتا ہے۔ صنعت کاراور کارباری طبقہ حکومت سے مراعات کا مطالبہ تو کرتا ہے مگر ٹیکس واجبات کی ادائیگی پر آمادہ نہیں ۔ جس کی وجہ سے حکومت وسائل کے حصول کے لئے بلواسطہ ٹیکس لگانے پر مجبور ہوتی ہے۔ اس غیر منصفانہ ٹیکس نظام کی وجہ سے ہی ملک میں غریب غریب تر اور امیر، امیرتر ہو رہا ہے ۔حکومت نے ٹیکس نظام کو منصفانہ بنانے کے لئے موجودہ بجٹ 2019-20ء میں اصلاحات اور معیشت کو دستاویزی بنانے کیلئے اقدامات کئے تو ملک بھر سے تاجر تنظیموں نے ہڑتال اور تالہ بندی کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں ۔رئیل اسٹیٹ، ٹیکسٹائل ،سٹیل اور سیمنٹ سیکٹر کی ہڑتال کی دھمکیوں کے بعد گزشتہ روز کراچی کی تاجر برادری نے بھی تین روزہ ہڑتال کا اعلان کر دیا تھا ۔ بعض اقتصادی ماہرین ان ہڑتالوں کو حکومت کے ا عصاب کا امتحان قرار دے رہے ہیں۔ بہتر ہو گا حکومت معاشی پہیہ رواں رکھنے کے لئے جائز مطالبات تسلیم کرے اسی طرح کاروباری تنظیموں اور صنعتکاروں کا بھی فرض ہے کہ وہ ٹیکس اصلاحات اور معیشت کو دستاویزی بنانے حکومتی اقدامات کی کامیابی میں حکومت سے تعاون کریں تاکہ ٹیکس نظام کو منصفانہ بنا کر غربت کا خاتمہ ہو اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ حکومت تاجروں کو اعتماد میں لے کر معاملے کو خوش اسلوبی سے طے کر سکتی ہے۔