تجزئیے دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک سیاسی اور دوسرا معاشرتی ۔ دونوں قسم کے تجزیوں کے موضوع بحث تقریباً ملتے جلتے ہیں کیونکہ دونوں کا تعلق لوگوں کی زندگی کے مختلف پہلوئوں سے ہوتاہے مثلاً مذہبی یگانگت رکھ رکھائو یا منافرت ،طبقاتی کشمکش اور معاشی آتار چڑھائو ،جغرافیائی اور لسانی اختلافات اعلیٰ اخلاقی معیار اور پست ترین عادات واطوار ، علوم معرفت اور روحانی درجات اور سب سے بڑھ کر چوروں اور لیٹروں کی بقائے باہمی کے لئے انتھک کوشش دونوں قسم کے تجزئیوں میںکسی نا کسی حوالے سے بحث طلب رہتے ہیں۔ سائنسی علوم اپنی نوعیت اور کیفیت کے اعتبار سے تجزیاتی نہیں بلکہ تحقیقی مواد کے حامل ہوتے ہیں ۔ سیاسی مسائل اگر ایک طرف معاشرتی پیداوار ہی ہوتے ہیں تو دوسری طرف معاشرتی اتار چڑھائو ہی سیاسی اہداف متعین کرتے ہیں ۔ اللہ نے بھی مخلوق کو مختلف قبیلوں اور نسلوں میںایک دوسرے پر برتری اور تعریف کے لئے نہیںبلکہ ایک دوسرے کے تعارف کے لئے تقسیم کر رکھا ہے ۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ تجزیہ نگار کون ہوتا ہے؟ تجزیہ نگار دُور کنارے پر بیٹھا ہوا جہاز کو ہچکولے کھاتے دیکھکر پیچ وتاب کھارہاہوتاہے جس زاوئیے سے اُسے جہاز نظر آرہا ہوتاہے اسی حساب سے وہ اس کی منزل کی جانب سفر یا غرق ہونے کے اندازے لگاتا رہتاہے۔ وہ جہاز کے لوگوں کی بے چینیوں اور پریشانیوں سے اور اسکے کپتان کے سکون یا اضطراب سے بالکل بے خبر اپنے تیر چلانے میں مگن رہتاہے ۔دنیا کے بین الاقوامی طور پر جانے پہچانے تجزیہ نگار گذشتہ بیس سالوں سے امریکہ اور یورپ میں بیٹھے بیٹھے افغانستان کی صورت حال کے بارے میںجو تجزئیے پیش کرتے رہے ان کے مطابق جو ہونا تھا بالکل اس کے الٹ ہوا۔ امریکہ بھارت اور یورپ کے ملکوں نے اربوں ڈالر اور روپے پیشہ ور تجزیہ نگاروں کے بھینٹ چڑھادئیے لیکن وہی ہوا جو یہ سب ممالک اجتماعی طور پر چاہتے تھے کہ ناہو۔ ہمارے اپنے ملک کے اندر بعض تجزیہ نگار بروں کو اچھااور اچھوں کو برا ثابت کرنے پر گذشتہ کئی سالوں سے تُلے ہوئے ہیں لیکن جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے کے مصداق جوکوئی پہلے جو کچھ تھا اب بھی خیرسے وہی کچھ ہے پھر اس دوران کیا ہوا؟ کچھ لوگ جو پہلے لکھ پتی تھے پھر کروڑپتی بنے او ر اب ارب پتی بن گئے ۔ ایسے ارب پتی کہ ’’دامن نچوڑدیں تو فرشتے وضو کریں‘‘ جن کی بزرگی اور متانت کے آگے سر احترام سے اس طرح جھک جاتے ہیں کہ اپنے آپ سے شرم آنے لگے۔ تجزئیے کس طرح ہوتے ہیں؟ تجزیئے دو طرح سے ہوتے ہیں یعنی بول کے ہوتے ہیں اور لکھ کرہوتے ہیں، جس طرح بولنے سے آدمی پہچانا جاتاہے اسی طرح اپنی تحریر سے بھی پہچانا جاتاہے جس شخصیت ،ماحول ،قوم یا ملک کے بارے میںآدمی تجزیہ کرتاہے اس شخصیت ،ماحول قوم یا ملک سے اپنی وابستگی اور تعلق بھی چاہنے یا نا چاہنے کے باوجود ظاہر کردیتاہے اسکا تجزیہ اسکی پہچان کرادیتا ہے کوئی بھی تجزیہ نگار گرگٹ کی طرح روپ بدلنے کا متحمل نہیںہوسکتا لیکن پھر بھی کبھی کچھ اور کبھی کچھ اور زیادہ ہونے کی مجبوریوں پر قابوپانا دشوار ہوجاتاہے یہاں مجھے ایک مرحوم دوست ستار طاہر کا شعر یاد آگیا ہے۔ رُوپ گرگٹ کی طرح روز بدلتاکیا ہے دوست ہے یا میرا دشمن میری پہچان میںآ اچھا تجزیہ وہ ہوتاہے جو زیادہ معروضی ہو اورکم موضوعی،برا تجزیہ زیادہ موضوعی اور کم معروضی ہوتاہے ہمارے نامی گرامی تجزئیے بھی معروضی کم اور موضوعی زیادہ ہوتے ہیں ۔بعض تجزئیے تو اس حد تک موضوعی ہوتے ہیں کہ تجزئیے کی بجائے ذاتی تبصرے لگتے ہیں یہ ایک تجزیاتی بحران ہے جس سے قوم اس وقت دوچار ہے۔ اسی نوعیت کی سوچ اور فکر نے ہر ملک ،قوم اور مذہب کی تاریخ کو مسخ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ۔ 1857کے واقعات انگریز کے لئے بغاوت اور ہمارے لئے جنگ آزادی سمجھے جاتے ہیں۔ تجزیہ کا مقصد کیاہوتاہے؟ یہ سوال ہی غلط ہے۔ اگر اسی حساب سے اس کا جواب دیاگیا تو وہ بھی غلط ہو گا ۔تجزیہ کا کوئی مقصد نہیں ہوتا ۔ تجزیہ کا ر کا مقصد ہوتاہے تجزیہ۔ دراصل تجزیہ نگار کی فہم وفراست ،عقل ودانش ،نظریاتی یافکری وابستگی اور سب سے بڑھکر اپنے ظرف کا عکاس ہوتا ہے۔ کیوں؟ اسلئے کہ اپنے تجزئیے کی بناپر تجزیہ نگار یا اقتدار کے ایوانوں یا اختلاف کی جماعتوں اور مختلف مالکان اور اداروں کی آنکھ کا تارا بن جاتاہے یاپھر انہی کی نظروں میںگرجاتاہے۔ تجزیہ کار کو کسی نا کسی بات ،شخصیت یا گروہ یا نظرئیے کے حق میں یا اسکے خلاف بولنا یا لکھنا ہوتاہے وہ بیچارہ اپنے چاہنے والوں کے لئے بولتا اور لکھتاہے اپنے لئے بولے اور لکھے تو بھوکا مرجائے بہرحال اس دوران ایک کامیاب تجزیہ کار کا ایک جائیز قسم کی خوش فہمی کا شکار ہونا ضروری ہوجاتا ہے جس کے تحت آدمی اکثر اوقات اپنے آپے سے باہر نکل آتاہے۔ بھول جاتاہے کہ وہ اگر اپنی دوآنکھوں سے بہت سارے لوگوں کو ٹھیک ٹھیک نشانے پر رکھ کر دیکھ سکتاہے تو لاتعداد آنکھیں اس کا محاصرہ بھی کئے رہتی ہیں جن کے حصار سے نکلنا بڑے بڑوں کے لئے بھی ممکن نہیں ہوتا۔ تجزیہ کار کو کیا نہیںہونا چاہئے؟ یہ ہے اصل سوال جس کا تعلق کسی بھی تجزیہ نگار کی عزت وتوقیر اور احترام سے جڑا ہوتاہے وہ جو کہتے ہیں کہ ہر بات کے حق اور مخالفت میں یکساں طور پر بہت کچھ کہا جاسکتاہے بالکل درست ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی پہچان ہی گنوادے اور صرف ایک آلہ کار بن کے رہ جائے۔ اس حدتک کسی کا آلہ کار بن جائے کہ اُس کا پورا تجزیہ سننے اور پڑھنے سے پہلے اس کی شکل اور نام سننے سے ہی سمجھ میں آجائے ۔یہ ریت وروایت اگر پاک وپاکیزہ ہستیوں کی حد تک محدود رہے توکیا کہنے کیونکہ ان کا ’’آلہ کار ‘‘ بننے میں ہی دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابیاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ’’اللہ سے جب بھی مانگو نصیب مانگوکیونکہ میں نے بہت سارے عقلمندوں کو نصیب والوں کے آگے جھکتے دیکھاہے‘‘ ۔ تجزیہ کار کو یہ پہلو ذہن میںرکھنا چاہئے ۔ کیونکہ اسے یہ سہولت میسر ہوتی ہے کہ وہ پہلو بچا کر گزرسکتاہے۔ یہیں سے تجزیاتی بحران جنم لیتاہے ۔ جس پر قابو پانا تجزیہ نگار کا فرض ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ آج کے تجزیہ نگار کی توجہ اس قدرگوناگوں مسائل میں بٹی ہوتی ہے کہ اُس کا پوری یکسوئی کے ساتھ اپنی ہی سوچ اور فکر کے تضادات پر قابوپانا مشکل ہوجا تاہے ۔ اس کا واحد علا ج دانائی ہے ۔ وہ دانائی جس کی بنیاد خوف خداہے۔