گزشتہ ستر بہتر برس سے ہر گزرتا پل تحریک پاکستان کے قائدین کی دور اندیشی کی تائید کرتا دکھائی دیتا ہے اس دوران متعصب ہندو قیادت نے بھارت اور کشمیر میں مسلم کشی کا جو رویہ اپنا رکھا ہے وہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دو قومی نظریہ بالکل درست تھا اور درست ہے۔ خاص طور پر بی جے پی کی صوبائی مرکزی حکومتوں نے ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کو کچلنے کی کھلم کھلا پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان بنایا گیا۔ ہندوئوں کی لبرل‘ اور متعصب دونوں طرح کی قیادتوں نے تحریک آزادی کے دنوںمیں ہی اپنے رویے سے ثابت کیا کہ مسلمانوں کا علیحدہ وطن کا مطالبہ بالکل درست ہے۔ قائد اعظم نے ایک کامیاب وکیل کے طور پر دلیل کے ہتھیار سے لیس ہو کر ثابت کیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔قائد اعظم نے نہ صرف ایک علیحدہ وطن کے لئے تحریک چلائی بلکہ پہلے سے بتا دیا کہ اس نئے ملک کا نقشہ کیا ہو گا اس میں کس طرح کا آئین نافذ ہو گا‘ وہاں کے تھانے کچہریاںاور عدالتیں کیسی ہوں گی قائد اعظم نے تحریک پاکستان کے دوران اور قیام پاکستان کے بعد بار بار واضح کیا کہ پاکستان ایک ماڈرن اسلامی فلاحی اور جمہوری ریاست ہو گی۔ اگرچہ پاکستان ہمیں ان آئیڈیل حالات میں نہ ملا کہ جس کا خاکہ علامہ اقبال اور پھر قائد اعظم اور دوسرے قائدین کی نظروں میں تھا ۔ شمالی مغربی ہند کے علاقوں میں سارا پنجاب شامل تھا جبکہ ہندوئوں نے تقسیم کے فارمولے کو تسلیم کرنے کی ایک شرط پنجاب کی تقسیم قرار دے ڈالی اسی طرح مسلم لیگ کی منصوبہ بندی میں مشرقی طرف سارا بنگال مجوزہ پاکستان کا حصہ تھا اور کشمیر کے بارے میں تو تو کوئی کنفیوژن ہی نہ تھا قائد اعظم محمد علی جناح نے اس لئے کیبنٹ مشن کی تجویز کو قبول کر لیا۔ اس منصوبے کے تحت مرکز کے پاس صرف خارجہ امور دفاع اور مواصلات ہوں گے۔ کیبنٹ مشن پلان کے تحت برطانوی ہند کے گیارہ صوبوں مندرج ذیل تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا ۔گروپ الف میںہندو اکثریت صوبے اڑیسہ‘ بہار‘ بمبئی‘ سی پی، مدراس اور یو پی تھے ۔ گروپ ب میں مسلم اکثریت کے صوبے پنجاب صوبہ سرحد اور سندھ جبکہ گروپ ج میں مسلم آبادی کے صوبے بنگال اور آسام شامل تھے۔ کانگریس نے اس پلان کو رد کر دیا کیبنٹ مشن کے بعد آخری وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن تقسیم ہند کے ایجنڈے کے ساتھ آئے مگر انہوں نے ریڈ کلف کے ساتھ مل کر ہندوئوں کی خوشنودی کے لئے پنجاب اور بنگال کو تقسیم کر دیا اور مسلم اکثریت کی ریاست کشمیر کو مجوزہ پاکستان سے جانے والے آسان راستوں کو پاکستان سے کاٹ کر کانگریس کی جھولی میں ڈال دیا۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ بستر مرگ پر بھی کشمیر کے بارے میں خبریں سن کر قائد اعظم پر غشی طاری ہو جاتی تھی۔ تقسیم ہندکے وقت مہاراجہ ہری سنگھ کشمیر کا حاکم تھا۔ تقسیم کے اصول کے مطابق ہی واضح تھا کہ وہ ریاست کی اکثریتی مسلم آبادی کی خواہش پر الحاق انڈیا سے نہیں پاکستان سے کرے گا۔ تقسیم سے بھی پہلے بھارتی لیڈروں نے کشمیر جا کر راجہ پر دبائو ڈالا کہ وہ الحاق پاکستان سے نہ کرے۔1947ء سے لے کر 1954ء تک جواہر لال نہرو یو این،سلامتی کونسل اور پاکستانی حکمرانوں کو یقین دلاتے رہے کہ وہ کشمیر میں عالمی اداروں کے ساتھ مل کر استصواب رائے کرائیں گے تاکہ کشمیری اپنی آزادانہ مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ مگر 1955ء سے بھارت نے اپنا رویہ بدل لیا اور شیخ عبداللہ جیسے کشمیری رہنمائوں کو ساتھ ملا کر رائے شماری کے وعدے سے پھر گیا۔1950ء کے اوائل میں کشمیریوں کی اشک شوئی کے لئے بھارتی آئین میں دفعہ 370اور پھر 35اے کا اضافہ کیا جس کے تحت کوئی غیر کشمیری وادی میں جائیداد خرید سکتا تھا اور نہ ہی وادی کا شہری بن سکتا تھا۔ بھارت نے 1987ء سے جب نام نہاد ریاست انتخابات میں بھی دھاندلی شروع کر دی تو حریت پسند کشمیریوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا اور سیاسی مقاصد کیساتھ ساتھ تنگ آمد بجنگ آمد کا آغاز کر دیا۔ گزشتہ بیس پچیس برس کے دوران بھارتی فوج نے کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کرتے ہوئے تین لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا۔ لاکھوں کو معذور اور اندھا کیا اور ہزاروں کو کسی مقدمے کے بغیر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان خبروں کو سن کر دنیا میں ایک کہرام بپا ہو جانا چاہیے تھا مگر اس پر اقوام متحدہ سمیت بڑی قوموں نے چپ سادھ رکھی ہے، سبب اس کا یہ ہے کہ خون مسلم ہے کسی عیسائی یا یہودی کا خون نہیں۔ گزشتہ 9روز سے کشمیری بدترین کرفیو کی زد میں ہیں۔ ڈیڑھ کروڑ انسان گھروں میں مقید ہیں اب ان مظلوم لوگوں کے پاس خوراک ہے نہ دوا۔ مساجد پر تالے پڑے ہیں، انٹرنیٹ اور فون بدستور بند ہیں۔ کشمیریوں کی حریت پسند اور ’’سیاست پسند‘‘ ساری قیادت جیلوں میں ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی اس نازک صورت حال پر کوئی فیصلہ دیا ہے نہ ہی کوئی حکم جاری کیا ہے۔ عالمی برادری چپ‘ اسلامی برادری چپ‘ یو این چپ اسلامی کونسل چپ اور ثالثی کرانے والی دنیا کی بڑی قوتیں بھی چپ ہیں اور سب سے زیادہ المناک بات یہ ہے کہ خود پاکستانی حکمران بھی چپ ہیں، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ایوان کے سب سے معقول اور معتدل ممبر ہیں۔ ان کا انداز گفتگو شستہ بھی ہے اور شائستہ بھی۔ وہ ڈیبیٹروں کے انداز میں اپنا استدلال پیش کرتے ہیں۔ تاہم ان دنوں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ایوان کے اس طرف سے بول رہے ہیں یا ایوان کے اس طرف سے بول رہے ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ قرار داد کشمیر کے حق میں بول رہے یا اس کے خلاف بول رہے ہیں۔ انہوں نے مظفر آباد جا کر فرمایا قوم زیادہ امیدیں نہ باندھے مسئلہ کشمیر آسانی سے حل ہونے والا نہیں۔ یہ بھی کہا کہ کوئی خوش فہمی میں نہ رہے۔ سلامتی کونسل میں کوئی ہار لے کر نہیں کھڑا ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ امہ کے محافظ بھارت کے دوست ہیں۔ جناب والا! آپ تو کل تک قوم کو کچھ اور خوش خبریاں سناتے رہے ہیں۔ اگر عالمی برادری اور اسلامی برادری ترش روئی سے پیش آ رہی ہیں تو ذمہ دار کون ہے۔ حضور والا ! قوم کو سچ سچ بتائیے کہ آپ کے ارادے کیا ہیں؟ کیا آپ فیصلہ کر چکے ہیں کہ آپ نے کشمیریوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا ہے۔ بھارت سے جنگ کا خطرہ مول نہیں لینا اور ملک کے اندر سارے کرپٹ عناصر کا احتساب آپ کی اول و آخر ترجیح ہے تو قوم سے شیئر کیجیے ہم بیچارے کشمیری اب قحط جیسی صورت حال سے دوچار ہو رہے ہیں اور وزیر خارجہ فرماتے ہیں کہ جناب وزیر اعظم ستمبر میں یو این جائیں گے اور مسئلہ کشمیر حل کروانے کے لئے آواز بلند کریں گے۔ تاتریاق ازعراق آوردہ شود مارگزیدہ مردہ شود۔ جب تک بھارت پر عالمی دبائو نہیں ڈلوایا جائے گا، جب تک سفارتی اور سیاسی پریشر نہیں ڈالا جائے گا ،جب تحریک مزاحمت مودی کا راستہ نہیں روکے گی اور جب تک بھارت کو یہ واضح پیغام نہیں جائے گا کہ ہم کشمیریوں کی حمایت میں جنگ کا آپشن بھی اختیار کرنے میں بھی دیر نہیں لگائیں گے جب تک آپ بھارت کا دامن حریفانہ نہیں کھینچیں گے اس وقت تک بھارت ٹس سے مس نہیں ہو گا۔ جناب والا! قوم ہر قربانی کے لئے مستعد ہے اور آزادی کشمیر کے بارے میں آپ کے جواب کی منتظر ہے۔