استنبول میں تیسری سپیکر کانفرنس کے شرکاء کے اعزاز میں استقبالیے کے موقع پر ترک صدر سے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی ملاقات ہوئی۔ طیب اردوان نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ترکی اور پاکستان برادر اسلامی ملک ہیں جو ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ترکی پہلے ہی پاکستان کی مسئلہ کشمیر پر پُرخلوص حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ترک صدر متعدد مرتبہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش بھی کر چکے ہیں لیکن بھارت ہٹ دھرمی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ 5 اگست 2019ء کو جب مودی سرکار نے آرٹیکلز 370 اور 35 اے کا خاتمہ کرکے وادی میں کرفیو نافذ کیا تب بھی ترک صدر نے سب سے پہلے اس کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیراخلاقی اور غیر قانونی قرار دیا۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بھی ترک صدر نے دوٹوک الفاظ میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر ہوتے مظلوم کشمیریوں کے حق میں عالمی سطح پر آواز بلند کی۔ ترک صدر اب بھی بھارت کو فوری طور پر کرفیو کے خاتمے پر زور دے رہے ہیں۔ درحقیقت مسلم دنیا میں ترکی واحد ملک ہے جو اب بھی مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے لئے کوشاں ہے۔ اس سلسلے میں طیب اردوان عالمی برادری کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے نظر آتے ہیں۔ اسلامو فوبیا کے خاتمے اور اسلام کی حقیقی تصویر اجاگر کرنے کے لئے ترکی ملائشیا اور پاکستان نے مل کر انگلش چینل شروع کرنے کا پروگرام بھی ترتیب دے رکھا ہے جس کے بعد مسلم امہ کی عالمی سطح پر حقیقی معنوں میں ترجمانی بھی ہو سکے گی۔