نئی دہلی (نیٹ نیوز) بھارت میں ایک سکول کے پرنسپل کو طلبہ کو ہندو اور مسلمان سیکشن میں تقسیم کرنے پر معطل کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی دہلی کی میونسپل کارپوریشن کے تحت چلنے والے سکول کے پرنسپل سی بی سنگھ سہراوت نے طلبہ کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہوئے ان کے علیحدہ علیحدہ سیکشن بنا دئیے تھے ،طلبہ اور دیگر اساتذہ نے شدید احتجاج کیا تاہم پرنسپل نے احتجاج کو نظرانداز کر دیا۔ میونسپل کارپوریشن کے سربراہ مادھپ ویاس نے بتایا کہ پرنسپل کو معطل کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے ، طلبہ اور اساتذہ سے ابتدائی پوچھ گچھ میں پتہ چلا کہ طلبہ کو الگ کرنے کا فیصلہ صرف پرنسپل کا تھا اور اس میں کوئی اور ٹیچر شامل نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا یہ فیصلہ ناقابل قبول ہے اور کسی تعلیمی ادارے میں اس طرح کے اقدامات کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ ایسے اقدامات ہمارے کثیر ثقافتی معاشرے کی بنیادوں کیلئے بھی خطرہ ہیں۔