اسلام آباد (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے ہاؤسنگ اور تعمیراتی شعبہ کی سرگرمیوں میں اضافہ سے کورونا وائرس سے متاثرہ معیشت کی بحالی کی جانب ایک اور قدم اٹھایا ہے جس کے تحت صرف 18 ماہ کے دوران کمرشل بینکوں سے مورگیج فنانس کے تحت 330 ارب روپے کے قرضے فراہم کئے جا ئینگے ۔ وزیر اعظم نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں تعمیرات کے شعبہ کی بحالی کا منصوبہ منظر عام پر لائے ہیں۔ حکومت کے اقدام پر اظہار خیال کرتے ہوئے معروف پراپرٹی ڈویلپر اور بزنس مین اعجاز گوہر نے کہا کہ یہ پہلا منصوبہ ہے جس کے تحت کم اور متوسط آمدنی والے افراد اپنے گھر تعمیر کر سکیں گے اور اس حوالے سے ان کو 5تا 7 فیصد کی کم ترین شرح سود پر مورگیج فنانسنگ کی سہولت حاصل ہو گی۔ کمرشل بینک اپنے پورٹ فولیو کے 5 فیصد کے مساوی رقم اس مدکیلئے مختص کر ینگے ۔ انہوں نے کہا کہ بہترین موقع ہے کہ 31 دسمبر 2020ئسے قبل ریئل اسٹیٹ کے شعبہ میں بڑی سرمایہ کاری کے ذریعے لوگ اپنی رقم ڈکلیئر کر سکتے ہیں۔ اب 30 ہزار روپے تا ایک لاکھ روپے تک کی آمدنی والا فرد 5 فیصد شرح سود پر مورگیج فنانس کی سہولت حاصل کر کے 10 مرلے کا گھر تعمیر کر سکتا ہے ۔ گھروں کی تعمیر کیلئے حکومت 30 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کریگی۔ دنیا بھر کی طرح کورونا وائرس کی وبا نے پاکستانی معیشت کو بھی متاثر کیا اور اس کے علاوہ بے روزگاری اور عام آدمی کی معاشی مشکلات بڑھی ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے سمارٹ لاک ڈاؤن کی پا لیسی پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا تاکہ معیشت کے کچھ شعبوں کو بھی کھلا رکھا جائے ۔ معاشی بحالی منصوبہ کاایک اہم جزو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا دوسرا فیز ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت نے سی پیک اتھارٹی قائم کی اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو اس کا سربراہ تعینات کیا ۔سی پیک کے تحت منصوبوں کی تکمیل کیلئے ان کی تعیناتی سے بڑی مدد ملی ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رکھا اور اپنے قیام کے بعد مختلف مسائل کا خاتمہ کیا اور ملک کے اداروں کو ماضی کی حکومتوں کی نااہلیت اور بد انتظامی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو ختم کیا ۔ گزشتہ دو سال کے دورن پاکستان نے دہشتگردی اور بدامنی کو شکست دی جس سے سیاحت میں نمایاں اضافہ ہوا ۔ حکومت نے غیرملکی سیاحوں کی سہولت کیلئے 175ممالک کیلئے آن لائن اور 50ممالک کے شہریوں کو ویزہ آن ارائیول کی سہولت دی۔پاکستان کی مسلح افواج نے ایک دہائی سے طویل عرصہ کی جدوجہد کے بعد بدامنی اور دہشتگردی کو شکست دی ۔ وزیراعظم عمران خان نے منفی افواہوں کی پرواکیے بغیر نئے پاکستان کی راہ پر اپنا سفر جاری رکھا جس میں معاشی مواقع اور ہر شہری کی مجموعی خوشحالی کو یقینی بنایا جا ئیگا۔