اسلام آباد ،ریاض (نیوز رپورٹر ،92 نیوزرپورٹ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سعودی ہم منصب سے ملاقات ہوئی،ملاقات میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے سے متعلق گفتگوکی گئی،دونوں رہنمائوں نے خطے میں قیام امن کیلئے کوششوں پراتفاق کیا۔تفصیلات کے مطابق شاہ محمود قریشی ریاض میں سعودی دفتر خارجہ پہنچے جہاں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ خطے کے امن و امان اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ایران اور امریکہ کو مذاکرات پر آمادہ کیا جائے تاکہ معاملات افہام و تفہیم کے ساتھ پرامن انداز میں طے پا سکیں، پاکستان کی کوشش یہی ہے کہ تمام فریقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات اور گفت و شنید کا راستہ اپنائیں ،ہمیں تشویش ہے کہ اگر اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے بروقت اقدام نہ اٹھائے گئے تو یہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ، انہوں نے کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کیلئے دیگر وزرائے خارجہ سے ہونے والے روابط سے بھی سعودی ہم منصب کو آگاہ کیا ،شاہ محمود نے اپنے سعودی ہم منصب کو پاکستان کی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں اضافے سے افغان امن عمل جو اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اس کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ملاقات میں سعودی وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی بحرانی کیفیت پر قابو پانے اور خطے کو مزید کشیدگی سے بچانے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی امن کاوشوں کو سراہا اور شاہ محمود قریشی کے دورے اور کوششوں کا خیر مقدم کیا۔ پاکستان خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا اور پاکستانی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔یہ بات وزارت خارجہ کی جانب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ ایران سے متعلق اعلامیے میں کہی گئی ہے ۔اعلامیے میں کہا گہا ہے کہ وزیر خارجہ نے ایرانی قیادت کوپاکستانی موقف سے آگاہ کیا کہ پاکستان کشیدگی نہیں چاہتا ، پاکستان کسی جنگ اور تصادم کا حصہ نہیں بنے گا ۔ دریں ا ثنا وزیر خارجہ شاہ محمود سعودی عرب کا ایک روزہ دورہ مکمل کر کے عمان چلے گئے ، سعودی وزارت خارجہ کے ڈی جی پروٹوکول عبداللہ ایم راشدنے الوداع کیا ،پاکستانی سفیر راجہ علی اعجاز اور سفارت خانے کے سینئر حکام بھی موجود تھے ، شاہ محمود قریشی سلطان قابوس کے انتقال پر شاہی خاندان سے تعزیت کریں گے ۔