سینٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے تھانے اور ٹارچر سیلوں سمیت کسی بھی جگہ دوران حراست تشدد یا ہلاکت پر سخت سزا کا بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت تشدد کے ذمہ داروں کو تین سال قید‘20لاکھ روپے جرمانہ اور موت یا جنسی تشدد پر قانون کے مطابق سزا اور 30لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تھانوںاورٹارچر سیلوں میں زیر حراست افراد پر تشدد کیا جاتا ہے‘ بعض خفیہ ٹھکانوں اور ٹارچر سیلوں میں زیر حراست افراد اس قدر شدید تشدد کیا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض کی موت واقع ہو جاتی ہے لیکن پولیس کی تفتیشی رپورٹوں میں دل کے دورہ کو موت کا جواز بنایا جاتا ہے۔قبل ازیں گزشتہ سال پنجاب اسمبلی میں بھی تھانوں میں زیر حراست افراد پر پولیس کے بہیمانہ تشدد پر پابندی لگانے کی قرار داد جمع کرائی گئی تھی‘ اس میں شبہ نہیں کہ صوبے کے لاتعداد تھانوں خصوصاً چھوٹے شہروں‘قصبات اور مضافات میں واقع تھانوں میں مختلف گروہوں کے ایما پر لوگوں کوشدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کئی تھانے اور ٹارچر سیل اپنی شہرت کے حوالے سے عقوبت خانوں میں بدل چکے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ پولیس کے انداز تفتیش میں تبدیلیاں لائی جائیں اور پولیس کوڈ میں اصلاحات کی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تشدد کے لئے بنائے گئے خفیہ ٹارچر سیلز کا بھی قلع قمع کیا جائے اور زیر حراست افراد پر تشدد کی روک تھام کے لئے بنائے گئے قوانین پر عملدرآمد کیا جائے۔