تھرپارکر (نامہ نگار)ضلع تھرپارکر میں سڑکوں کے تعمیراتی کاموں میں کروڑوں روپے کے گھپلوں کا انکشاف ہوا ہے ۔ 7تحصیلوں میں ایک سال قبل یعنی 2018- 2019 میں بنائی گئیں سڑکیں زبوں حال ہوچکی ہیں۔ محکمہ پروانشنل ہائی وے کے افسر نے ٹھیکے کی رقم کا 45فیصد کمیشن لے کر سڑکیں بنانے کے ٹینڈر ٹھیکداروں کے حوالے کردیئے ۔پروانشنل ہائی وے کے کاموں میں گھٹیا اور نچلے معیار کا مٹیریل استعمال کرکے کرپشن کی گئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ضلع تھرپارکر میں محکمہ پروانشنل ہائی وے کی نگرانی میں تھرپارکر کی سات تحصیلوں مٹھی،ڈیپلو، کلوئی، چھاچھرو، ننگرپارکر اورڈاہلی کے دیہات میں 2018 اور 2019 میں سڑکوں کے تعمیراتی کاموں میں کروڑوں روپے کے گھپلوں کا انکشاف ہواہے ۔ یہ بھی واضح ہواہے کہ محکمہ کے ایگزیکٹو انجنیئر نے 45فیصد کمیشن رشوت لے کر نئی اور پرانی سڑکوں کی تعمیر ومرمت کے کام ٹھیکداروں کے حوالے کردیئے ہیں ۔ جبکہ ٹھیکداروں نے سڑکوں میں ہلکا اور کچا پتھر مٹی کے بجائے ریت اور تارکول کے ساتھ گاڑیوں کا جلاہوا کالا آئل استعمال کیا ہے ۔ اس کے ساتھ پلیوں میں کچی اینٹیں اور ہلکی کوالٹی کا سیمنٹ اور کم مقدار میں لوہا سریا استعمال کر کے خوب کرپشن کی گئی ہے ۔