اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم نے کوئٹہ میں اپنا تیسرا جلسہ کر لیاہے۔ ان کے جلسوں کی ہیٹ ٹرک ہوچکی ہے، اب ان کی سیاسی حکمت عملی اور بیانیہ واضح طور پر سامنے آ چکا ہے، رائے دینا آسان ہوگیا ۔ پہلے دونوں جلسوں کی طرح کوئٹہ کا جلسہ بھی خاصا بڑا اور بھرپور رہا۔ تینوں جلسوں میںلوگ نہ صرف جلسہ گاہ میں جمع ہوئے بلکہ باہر تک موجود تھے۔ مجھے حیرت ہے کہ تحریک انصاف کے وفاقی ، صوبائی وزرا بار بار ان جلسوں کو جلسی کہہ کر مذاق اڑا رہے ہیں، سفید جھوٹ بولے جار ہے ہیں کہ گرائونڈ خالی تھا اور لوگ نہیں آئے، وغیرہ وغیرہ ۔ حکومتی ٹیم کے یہ سب دعوے غلط اور مضحکہ خیز ہیں۔ گرائونڈ خالی تھا نہ ہی یہ جلسی تھی۔ لوگ آئے ، ان میں سیاسی کارکن زیادہ تھے،کہیں کم اور کہیں زیادہ مقامی لوگ بھی شامل ہوئے۔ گوجرانوالہ کے جلسہ میں شہر کے لوگ آئے ، آس پاس کے شہروں کی نمائندگی بھی تھی۔ کراچی میں مقامی لوگ کم تھے، پیپلزپارٹی نے سندھ بھر سے اپنے کارکنوں کو کراچی میں اکٹھا کر کے تعداد پوری کی ، مگر یہ بھی ہمارے سیاسی کلچر میں روٹین کی بات ہے۔کوئٹہ میں مقامی آبادی کی شمولیت خاصی تھی، گودوسروں شہروں سے بھی کارکن شریک ہوئے۔ اپوزیشن کے تینوں جلسے غیر معمولی یا تاریخ ساز تو نہیں تھے، مگرحاضری اور جوش وخروش کے اعتبار سے وہ اچھے جلسوں میں شمارہوں گے۔ آج کے دور میںہزاروں لوگ کسی جلسہ میں جمع ہوں ، وہاں کئی گھنٹوں تک موجود رہ کر تقریریں سنتے رہیں تو اسے کامیابی ہی سمجھنا چاہیے۔ پی ڈی ایم نے جلسوں کے حوالے سے اچھی پلاننگ کی۔ پہلا جلسہ ن لیگ کے گڑھ میں کیا گیا، دوسرا جلسہ کراچی میں تھا ، مگر یہ یوم کارساز اٹھارہ اکتوبر تھا، جس کے لئے ہر سال سندھ بھر سے پیپلزپارٹی کے کارکن کراچی اکٹھے ہوتے ہیں۔ اس کا فائدہ اٹھا یا گیا۔ تیسرا جلسہ کوئٹہ میں تھا جہاں جے یوآئی اور محمود اچکزئی کی میپ کا خاصا زور ہے، بلوچ قوم پرست جماعتوں کی شمولیت کی وجہ سے مختلف طبقات کی شرکت یقینی ہوگئی۔ اگلا جلسہ لاڑکانہ میں رکھا گیا ہے، جہاں پیپلزپارٹی کے لئے بڑا ہجوم اکٹھا کرنا مشکل نہیں، لاڑکانہ سے اس بار جے یوآئی کے امیدوارنے بھی پچاس ہزار سے زیادہ ووٹ لیے،یوں مولانا کے کارکنوں کی شمولیت پلس پوائنٹ بن جائے گی۔البتہ جوں جوں وقت گزرتا جائے گا، اپوزیشن کے لئے بڑے جلسے کرنا اور اپنے سیاسی مومینٹیم کو برقرار رکھنا چیلنج بنے گا۔ ہر جلسہ انرجی کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ کامیاب جلسے سے نفسیاتی طور پر اعتماد تو ملتا ہے، مگر اس سے تھکن دور نہیں ہوسکتی، وہ بڑھتی جاتی ہے۔ کوئٹہ کے جلسے میں سب سے تشویشناک بات پی ڈی ایم کے لیڈروں کا لب ولہجہ ہے۔اس جلسہ میں بعض تقریریں قابل اعتراض اور قابل مذمت ہیں۔ مولانا شاہ احمد نورانی کے صاحبزادے کی تقریر افسوسناک تھی۔ ان کی شہرت بلا سوچے سمجھے بولنے کی ہے، مگر وہ اتنے غیر ذمہ دار ہوسکتے ہیں، اس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔لولی لنگڑی وضاحت اگلے دن انہوں نے کی، مگر بات بنی نہیں۔اس پر افسوس ہوا کہ ان کے بعد خطاب کرنے والے پی ڈی ایم کے لیڈروں نے ان کی بات کی تردید یا وضاحت نہیں کی۔ مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن کو ایسا کرنا چاہیے تھا۔ ایسا نہ کرنا ناقابل فہم رہا۔ بلوچ ،پشتون قوم پرست لیڈروں کا بعض ایشوز پر ایک خاص موقف رہا ہے۔ عام طور پر و ہ ٹاک شوز میں کھل کر بیان نہیں کرتے۔مقامی جلسوں میں پشتو یا بلوچی میں تقریریں ہوجاتی ہیں تو اس کا ابلاغ دور تک نہیں ہوسکتا۔پی ڈی ایم کے جلسوں میں ان قوم پرستوں کا موقف زیادہ واضح طور پر سامنے آیا ہے، کہہ لیں کہ قومی سطح پر یہ ایکسپوز ہوئے ہیں۔ پنجاب، کراچی اور کے پی کے بعض شہروں کے علاوہ اوورسیز پاکستانیوں کے سامنے ان کا اصل روپ سامنے آ رہا ہے۔ محمود اچکزئی نے اپنے مخصوص انداز میں پاک افغان سرحد پر باڑ اکھاڑ پھینکنے کی بات کی ، پاسپورٹ لئے بغیر افغانستان جانے کا اعلان کیا تو بہت سے لوگوں کو حیرت ہوئی۔ کئی لوگوں نے میسج کیا،’’ اچکزئی صاحب کو کیا ہوگیا، ہم تو انہیں جمہوریت پسند، قانون پسندقومی رہنما سمجھتے تھے، یہ تو نہایت غیر ذمہ دار شدت پسند قوم پرست نکلے جو آئین کا نام لیتا ہے، مگر ملکی قوانین کا احترام کرنے کو تیار نہیں اور ایسا دھمکی آمیز لہجہ تو تیسرے درجے کے کم پڑھے لکھے کارکنوں کا ہوتا ہے۔‘‘میںکیا کہتا، صرف یہ جواب دیا کہ چلیں آپ کی غلط فہمی دور ہوگئی۔ مریم نواز شریف نے بہت سخت تقریر کی۔ ان کے لب ولہجے میں کڑواہٹ ، تلخی ، بیزاری بڑھتی جارہی ہے بلکہ اب اس کی کاٹ زہریلے پن میں تبدیل ہوچکی ہے۔ مریم نواز نے کوئٹہ میں جس طرح کی باتیں کیں، جیسے انہوں نے نعرے لگائے، جس والہانہ انداز سے شیم شیم کی صدائیں لگائیں، وہ ناقابل یقین تھا۔ مسلم لیگ ن کی قیادت شدید تصادم کی طرف جانے میں اتنی عجلت کیوں دکھا رہی ہے؟انہیں کسی نے یقین دلایا ہے کہ ان کے خلاف سخت کارروائی نہیںہوسکے گی یا پھر وہ دانستہ طور پر Provokeکر رہے ہیں؟نامعلوم وجوہات کی بناپر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف کریک ڈائون کیا جائے تاکہ حالات بگڑیں اور پورا سسٹم ہی نیچے گر جائے؟ براہ کرم کوئی مجھے یہ سمجھانے کی کوشش نہ کرے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت اچانک سے انقلابی ہوگئی ہے اور اب وہ نئی تاریخ رقم کرنا چاہتے ہیں۔ ایسی باتیں ٹی وی ڈراموں، فلموں میں ہوتی ہیں، ممکن ہے کوئی پر تخئیل فکشن نگار اپنے کسی افسانے میں ایسی سیچوئشن تحریر کر ڈالے ۔ عملی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا۔ افراد کی طرح سیاسی جماعتوں کا بھی خاص مزاج، افتاد طبع، شخصیت اور طرز عمل ہوتا ہے۔ زندگی بھر کی عادتیں چند دنوں میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔کرکٹ ہمارے ہاں بہت مقبول ہے، اس کی مثالیں آسانی سے سمجھ آ جاتی ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ انضمام الحق سچن ٹنڈولکر کی طرح سخت ورزش میں گھنٹوں صرف کریں ۔نہیں انضمام اپنے اسی مخصوص سست انداز میں کھیلے گا، بھاگ کر کم رنز بنائے گا، اس کوشش میں رن آئوٹ ہوتا رہے گا، ستر اسی پر پہنچ کر اس کا سانس چڑھ جائے گا اور وہ سنچری بنائے بغیر وکٹ گنوا بیٹھے گا۔ایک اور مثال پیش ہے، شاہد آفریدی کو کرکٹنگ ورلڈ بوم بوم کے نام سے یاد کرتی رہی، یہ اس کا خاص مزاج اور کلچر تھا، آفریدی کبھی محمد یوسف کی طرح گرائونڈڈ شاٹس نہیں کھیل سکتا، وہ اپنے ہی انداز میں کھیلے گا، اسی میں میچ جتوائے گا یا آئوٹ ہوجائے گا۔ مسلم لیگ ن کا مخصوص کلچر ، مزاج اور طرزسیاست ہے۔ یہ انقلابی جماعت نہیں ۔اس کے کارکنوں کی انقلابی تربیت ہوئی نہ انقلابی نظریہ راسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ن لیگ پریکٹیکل، دنیا دار ، کاروباری قسم کے لوگوں کی جماعت ہے۔احتجاجی سیاست کے بجائے اس نے ہمیشہ پاور پالیٹیکس کی۔ الیکٹ ایبلز کا یہ سب سے بڑا پلیٹ فارم رہا ہے۔مریم نواز شریف کی کاٹ دار، تیکھی، طعنوں سے لبریز تقاریر اور میاںصاحب کی چی گویرا ٹائپ آتش فشانی تقریروں کے لئے نہیں بنی۔ انگریزی محاور ے کے مطابق یہ ن لیگ کا ’’کپ آف ٹی‘‘ نہیں ۔ ملین ڈالر سوال یہی ہے کہ کسی انقلابی جماعتی ڈھانچے، کیڈر اور نظریے کے بغیر میاں نواز شریف سب کچھ تلپٹ کر دینے والی تقریریں کیوں کر رہے ہیں؟ وہ اپنی تقریروں میں باقاعدہ بغاوت پر اکسا رہے ہیں، مختلف حلقوں ، گروہوں کو کھڑے ہو کر سب کچھ الٹا دینے کی ترغیب دے رہے ہیں؟ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس سے ملک میں کتنا سنگین بحران آئے گا؟کیا میاں صاحب کو معلوم نہیں کہ اس کے اثرات اور نتائج کیا ہوں گے؟ ان کی پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کا کیا کچھ بھگتنا پڑے گا؟میاں نواز شریف ایک عملیت پسند رہنما رہے ہیں، پاور پالیٹکس کر کے تین بار وزیراعظم بنے، وہ ہر باریکی، نزاکت کو سمجھتے ہیں۔ کیا وہ صرف سیاسی فرسٹریشن یا ذاتی رنج وغم کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں؟کیا واقعی یہی وجہ ہے یا ایسا سوچناضرورت سے زیادہ سادہ لوحی ہے؟ اس وقت پی ڈی ایم اپنا توازن کھو چکی ہے اور وہ شدت اور ٹکرائو کی طرف مائل ہے۔ اس کے پلیٹ فارم سے ایسی تقریریں بھی ہو رہی ہیں، جن پر ملک دشمنی کا الزام عائد کیا جا سکتا ہے۔ لاڑکانہ جلسہ زیادہ اہم ہے کہ اس میں اختیار کیا گیا لب ولہجہ پیپلزپارٹی کی سوچ کو ظاہر کرے گا۔دیکھنا یہ ہوگا کہ وہاں میاں نواز شریف کو تقریر کا موقعہ دیا جاتا ہے یا کراچی کی طرح اجازت نہیں ملے گی۔میرے خیال میں لاڑکانہ جلسہ ردعمل کی نوعیت اور شدت کو بھی طے کرے گا۔