آج کل ہم پوری دنیا سے جڑکر بہت خوش ہیں۔ ہر انسان کے ہاتھ میں چھوٹا سا آلہ مواصلات ہے جس سے وہ ہر لمحہ، دنیا کو اپنی نگاہوں میں بسائے رہتا ہے۔ کہیں ذرا کچھ کم و زیادتی ہوئی ، اسے علم ہوجاتا ہے۔ یہ کتنا اچھا نظام ہے کہ ہم ہر لمحہ اپنے عزیزوں سے رابطہ میں ہیں مگر یہ حقیقت بھی بڑی تلخ ہے کہ اس نظام رابطہ سے ہم دور والوں سے نزدیک توہوگئے ہیں مگر نزدیک والوں سے بہت دور بھی جاچکے ہیں۔ جب اس موبائل نے ترقی کی تو انٹر نیٹ کوبھی اپنے ہمراہ لے لیا۔ انٹرنیٹ آتے ہی پوری دنیا بدل گئی۔ صدی کی سب سے بڑی ایجاد ،انٹرنیٹ۔ لوگ اس سے استفادہ کرنے لگے جب لوگوں کا اس پر اعتماد بڑھ گیا تو اپنا سب کچھ اسی کے حوالہ کرنا شروع کردیا اور یقین کربیٹھے کہ اب ہمارے کندھے سے ذمہ داری کا بوجھ ہلکا ہوگیا۔ جی ہاں! اس سے بڑے بڑے کام آسان اور تیز رفتاری سے انجام پاتے ہیں مگر اب یہی ہمارے لیے وبال جان بھی بناجارہا ہے۔ ہم اس کے جال میں پھنسے جارہے ہیں۔ کسی بھی ویب سائٹ کو کھولنے کے لیے ہم (www)کا استعمال کرتے ہیں جس کا فول فارم (Worldwide Web)ہے۔اس کا مطلب’عالمی جال ‘ہوتا ہے۔ہم نے اسے جانا مگر پہچانا نہیں۔ اب جان کر بھی انجام بننے کے سواکوئی چارہ کار بھی نہیں ،کیوں کہ اب تو ہم اس کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ نکلنا چاہیں توبھی نہیں نکل سکتے۔ اب اس کا وجود ہماری کمزوری ثابت ہورہا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتوہماری زندگی سونی سونی ہوجاتی ہے۔لطف حیات کِرکِراہوجاتا ہے۔انسان کی کمزوری ہوجانا دراصل اسے غلامی کی طرف کھینچ لے جانا ہے۔اب آپ ملاحظہ فرمائیں ہم کہاں تک پھنس چکے ہیں۔ ہمارے سارے کاغذات انٹرنیٹ کے حوالہ ہیں۔ یہ ہم سے ایسا کرواگیا ہے۔ ہم نے اپنی دولت ، بینک کے حوالہ کردی۔ اب جب بینک جائوتو وہاں کا ایک ہی شکوہ ، سرور(Server) نہیں ہے۔ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ مطلب دونوں لاچار۔ نہ تو بینک والا کچھ کرسکتا ہے اور نہ ہی ہم۔ ہماری ساری باتیں تو انٹرنیٹ پر ہیں مگر کیا ہم کو یہ معلوم ہے کہ ہم روزانہ جانے انجانے میں اپنی ذاتی معلومات ایسے ایجنٹ کو دیتے رہتے ہیں جو ہمیں زندگی سے لاچار کرتے رہتے ہیں۔ یہ سب کچھ بڑی پلاننگ کے ساتھ کیا جار ہا ہے۔ ہماری تمام تر معلومات ایک جگہ محفوظ ہیں۔ بس ایک کلک پر پوری زندگی کھل کرسامنے آسکتی ہے۔ ہیکر ز کیا کرتے ہیں ؟ہماری ذاتی معلومات کو ہیک کرتے ہیں اور پھریوں ہمیں کنگال بنادیتے ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ کی باتیں صرف آپ کو اور دوسری جانب والے کو معلوم ہے… ؟اس گمان میں بھی مت رہئے۔ ہر جگہ ایک تیسری آنکھ کارفرما ہے۔ہم جو کچھ بھی انٹرنیٹ پر سرچ کرتے اور استعمال میں لاتے ہیں، تیسری آنکھ والے کو سب کوکچھ معلوم ہے بلکہ ہم تو بھول بھی جاتے ہیں مگر وہ کبھی نہیں بھولتا۔ اس لیے ایسی جگہوں پر پھوک پھوک کر قدم رکھئے۔ ابھی اس تیسری آنکھ اپنے ایجنڈے پر مکمل طور پر نہیں اتری ہے مگر خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ انٹرنیٹ کاجال’ عالمی ایجنڈا ‘کا ایک اہم حصہ ہے۔عالمی ایجنڈا یعنی دنیا سے تمام حکومتوں کا خاتمہ اور صرف ایک نظام کانفاذ؛ دجال کا نظام۔ یہ لوگ ’ایک عالمی حکومت‘ کے قیام کے درپے ہیںجسے ’نیوورلڈ آرڈر ‘کے نام سے تعبیر کیا جاتاہے۔ یہ دجال کی آمد کا زمینہ ہے جسے انہیں بہرحال نافذ العمل بنانا ہے۔ ایجنڈا۔2021اور ایجنڈا۔2031 اسی کی ایک شاخ ہیں جس کی رو سے تیسری آنکھ ہمیشہ ہمیں اور آپ کو اپنی جال میں پھنسارہی ہے۔ ان کی تابعداری کرنا ہماری مجبوری بن جائے گی۔ آپ ان کی مخالفت کرنا چاہیں گے تو بھی نہیں کرپائیں گے۔ آپ کی ساری معلومات ان کے پاس ہے۔ جیسے ہی آپ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ، سب بند اور آپ زندہ ہوتے ہوئے مردہ ہوجائیں گے۔ یہ نہایت آسان اور سادہ طریقہ ہے کہ پوری دنیا کو کنٹرول کرنے کا۔ ابھی آج ہی اگر وہ چاہیں تو کائنات کے تسلسل کو روک سکتے ہیں۔ بس نیٹ ورک بند ہوا اور دنیا بند۔ بالکل اسی طرح جیسے کورونا میں پوری دنیا بندہوگئی تھی۔اس لیے ہر کس و ناکس کو اپنی ذاتی معلومات فراہم کرنے سے پرہیز کریں اور خاص طورسے کسی چھوٹے فائدے کی طمع میں کچھ بڑا نقصان نہ کر بیٹھیں اور یہ بات تو یقینی ہے کہ دجال آئے گااور اس کی راہیں ہموار ہوں گی ، اس لیے ہر وقت دعا سہارااور اللہ سے لولگائے رہیں کیوں کہ شیطان مخلص بندوں کو گمراہ نہیں کرسکتا۔آخر میں ایک اہم کام کی جانب آپ کی توجہ مبذول کروانی ہے۔ترقی پذیر ممالک کو دی جانے والی امداد ہنگامی حالات کے لیے تیاری، تباہی کی صورت میں امدادی سامان کی فراہم، اقتصادی ترقی اور غربت میں کمی کرنے میں مدد کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔ امدادی پروگراموں کو چلانے کے لیے امریکی حکومت کے 20 ادارے ہیں اور اِن میں امریکہ کا بین الاقوامی ترقیاتی ادارہ قائدانہ کردار ادا کرتا ہے۔یو ایس ایڈ ایسی شراکت داریاں استعمال کرتا ہے جو لوگوں کو روز افزوں خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے مہارتیں حاصل کرنے اور استعداد پیدا کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ حکومتیں ایسی شرائط پر قرضے دیتی ہیں جو اتنی سخت ہوتی ہیں کہ مقروض حکومتوں کو انہیں ادا کرنے کے لیے بڑی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ یہ جال کمیونٹیوں اور ممالک کو قرض کے ایک ایسے چکر میں پھنسا دیتا ہے جو انہیں ناجائز دبائو کا سامنا کرنے میں کمزور بنا دیتا ہے۔ عام طور پر اِن ممالک کو قرض دینے والی حکومتیں، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اپنے مزدور ساتھ لے کر آتی ہیں جس سے قرض لینے والے ممالک کے مزدور روزگار سے محروم ہو جاتے ہیں۔اس کا بھی ازالہ ہونا چاہیے ۔ ٭٭٭٭٭