کراچی (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تین وفاقی وزرا کا تعلق کالعدم تنظیموں سے رہا ہے ان کو عہدوں سے ہٹایا جائے ۔ کالعدم تنظیم کے اثاثہ جات پر جے آئی ٹی کیوں نہیں بنتی؟۔ اپوزیشن کیخلاف بولنے والے وزیراعظم مودی اور کالعدم تنظیموں کیخلاف ایک لفظ نہیں بولتے ۔ کالعدم تنظیموں کے ہمدردر وفاقی کابینہ میں موجود ہیں۔18 ویں ترمیم ریڈ لائن ہے ، اس کیخلاف وفاقی حکومت کو کوئی قدم نہیں اٹھانے دینگے ، سڑکوں پر نکلنے اور لانگ مارچ کیلئے تیار ہیں، جیل جانے سے بھی نہیں ڈرتے ۔نیب کو سیاسی انجینئرنگ کیلئے استعمال نہ کیا جائے ۔سندھ اسمبلی پرافسوس ناک حملہ کیاگیا کیونکہ سپیکر سندھ اسمبلی پیپلز پارٹی کا عہدہ نہیں ۔ جعلی اکاؤنٹس جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی کو شامل کرکے اسے سیاست زدہ کردیا گیا ۔ پتا نہیں ہر بار انہیں کیوں شوق ہے کہ راولپنڈی میں ٹرائل ہو۔ مقدمہ سندھ اور بینک اکاؤنٹ سندھ کے لیکن کیس پنڈی شفٹ کیا جا رہا ہے ، راولپنڈی میں ایسا کیا ہے ؟ 6 ماہ سے ہماری کردار کشی کی جا رہی ہے ۔ آرٹیکل 10 اے کے مطابق فری ٹرائل ہمارا حق ہے ،جمہوریت میں ایسے تو نظام نہیں چل سکتا۔گزشتہ روز سپیکر سندھ اسمبلی سے ملاقات اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی پہلی اسمبلی ہے جس نے پاکستان کی قرارداد منظور کی، اس وقت کی اسمبلی میں بھی آغا سراج درانی کے رشتے دار تھے ۔ مشرف کے بنائے گئے ادارے نے سپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی کوبغیر کسی ثبوت اسلام آباد سے گرفتار کیا،کسی بھی جمہوریت اور معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا۔ گرفتاری کے بعد آغا سراج درانی کے گھر پر چھاپہ مارنا یہی پیغام دیتا ہے کہ ان کیخلاف کوئی ثبوت موجود نہیں تھا اور ثبوت ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی۔ جس طریقہ سے چادر اور چاردیواری کو پامال کیا گیا ہم برداشت نہیں کرینگے ۔ عورتوں اور بچوں کو یرغمال بنایا، بدتمیزی کی گئی ، افسوس ، چیئرمین نیب نے کوئی ایکشن نہیں لیا ۔ ایک مرتبہ پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ چیئرمین نیب اپنے ماتحت افسروں کا احتساب کریں ورنہ ہمیں ایکشن لینا پڑیگا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ نیب کا آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ویسا ہی ہے جیسے کوئی پولیس آفیسر کسی بیگناہ شخص کو پکڑے ، چرس اور 2 بوتل شراب کا الزام ڈال کر اسے اندر بند کردے ۔ آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام کسی پر بھی لگ سکتا ہے اور یہاں ہر پاکستانی کیلئے ایک قانون نہیں ۔ بینظیر بھٹو نے چارٹر آف ڈیموکریسی اور اپنے منشور میں کہا تھا کہ ہمیں نیب کو ختم کرنا ہے ، یہ ہماری بھی ناکامی ہے کہ ہم نیب میں کوئی اصلاحات یا اس مشن کو پورا نہیں کرسکے ۔ نیب ایک ایسا ادارہ ہے کہ اگر اس میں آپ فرشتہ بھی چیئرمین بنادیں تو تب بھی سیاسی انتقام ہی ہوگا کچھ اور نہیں۔ الیکشن کے دوران جعلی اکائونٹس کیس پر سوموٹو لینے کا مقصد کیا تھا؟، تفتیش کے معاملہ پر سوموٹو نہیں لیا جاسکتا، یہ انسانی حقوق کا کیس نہیں، ذوالفقار بھٹو اور بینظیر بھٹو کیس کا سوموٹو کیوں نہیں؟، آرٹیکل 10 کے مطابق ہمیں فری ٹرائل کا حق ہے جو نہیں ملا،6 ماہ سے ہماری کردار کشی کی گئی،کسی کورٹ نے ہمیں نوٹس نہیں دیااور سزا دیدی۔ پوری قوم نے دیکھا کہ مجھے کیس میں گھسیٹا جارہا ہے ۔خودچیف جسٹس نے قراردیا کہ بلاول بیگناہ ہے ۔ انصاف اس وقت تک نہیں ملے گا جب تک عدالت آزاد نہیں ہوگی، جسٹس کھوسہ صاحب نے کہا ہے کہ انصاف کا سفر شروع ہو رہا ہے ، میرے خیال میں اب اس کیس سے انصاف کا سفر شروع ہوگا۔ بدقسمتی سے جب جب آمر آئے عدالتوں نے انہیں کلین چٹ دی۔ ہر مرتبہ ہمارا ٹرائل راولپنڈی میں کیا جاتا ہے اور یہ سب سیاسی انجینئرنگ کیلئے کیا گیا۔ ہم اٹھارہویں ترمیم، جمہوریت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے اور چیلنج کرتاہوں سندھ کے ہسپتال ملک کے سب سے بہتر ہسپتال ہیں۔ این آئی سی وی ڈی امراض قلب کا دنیا کا سب سے بڑا ہسپتال ہے ، یہ سندھ کے ہسپتال ہیں ہم آپکو اپنا حق چھیننے نہیں دینگے ، اپنے حق کیلئے ہم عدالت بھی جارہے ہیں اور میں عوام میں بھی جارہا ہوں۔ آپ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے شخص کو گرفتار کرسکتے ہیں لیکن کالعدم تنظیم والوں کو نہیں؟ تین وزرا میں سے ایک کی کالعدم جماعت کے حق میں ویڈیو بھی موجود ہے ۔ کالعدم تنظیم کا اہم رہنما الیکشن کے وقت وزیر خرانہ کیساتھ گھومتا رہا۔ کالعدم تنظیموں کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دیکر تحریک انصاف کو مدد دی گئی۔ دنیا کو پیغام دیا جا رہا کہ ہم ان تنظیموں کو این آر او دے رہے ہیں۔حکومت کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی میں سنجیدہ نہیں، جوابدہ بنانا میرا فرض ہے ۔احتساب کے نام پر جو انتقام لیا جارہا ہے اسکو بے نقاب کرونگا۔امریکی صدر ٹرمپ کے ٹویٹ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے اعلان سے قبل انہیں کم از کم افغان قیادت کو اعتماد میں لے لینا چاہئے تھا ۔علاوہ ازیں بلاول نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی اورارکان سندھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ سندھ کی ترقی روکنا چاہتی ہے ، گیس اور پانی کا حق نہیں دیتی۔ نواز شریف کو این آئی سی وی ڈی ہسپتال میں علاج کی آفر کی ہے ، انکی صحت انتہائی خراب ہے ۔ نواز شریف سے کہتا ہوں کہ انکی میزبانی کرنا ہمارے لئے اعزاز کی بات ہوگی۔ نیب قانون کو کالا قانون قرار دیا اور کہا کہ ہم آپکی جیل کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ۔قبل ازیں بلاول سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی سے ملاقات کیلئے انتہائی سخت سکیورٹی اور پروٹوکول میں سندھ اسمبلی پہنچے تو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے انکا استقبال کیا۔بلاول نے سپیکر چیمبر میں آغاسراج درانی سے ملاقات کی اورانکی گرفتاری کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ۔قبل ازیں آغاسراج درانی کو نیب نے جیل سے سندھ اسمبلی پہنچا تو پیپلزپارٹی کے ارکان اورصوبائی وزراء نے انکا استقبال کیا ۔علاوہ ازیں بلاول نے نوازشریف سے جیل میں ملاقات کے بعد وفاقی وزیراطلاعات فوادچودھری کی جانب سے یوٹرن کے طعنے پرٹوئٹر پراپنے پیغام میں کہا کہ پہلے انسان بنو پھر سیاستدان بنو، انسانیت سیاست سے بالاتر ہے ، کسی کی تیمارداری کو عیادت تک ہی رکھنا چاہئے ۔اگر نئے پاکستان میں یو ٹرن لینے کا مطلب عظیم لیڈر بننا ہے تو آپکے کہنے کا مطلب ہے کہ میں یوٹرن لیکراس صدی کا عظیم لیڈر بن گیاہوں۔ آپکویاد نہیں جب بزرگ عمران خان گرے تھے تو نواز شریف نے انکی عیادت کی تھی۔