اسلام آباد(خبر نگار) سپریم کورٹ نے تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق فیصلے پر عمل درآمد کا حکم دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے ایک ہفتہ کے اندر پیش رفت کی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ضمنی الیکشن میں تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے اور اس مقصد کے لئے وضع کردہ سسٹم کی تجرباتی آزمائش اورسفارشات کی رپورٹ جمع کرنے جبکہ آئندہ کے لئے آر ٹی ایس کی خامیاں دور کرنے کی ہدایت کی ۔ چیف جسٹس نے کہا الیکشن عمل میں الیکٹرانک سسٹم کے استعمال کو روکا نہیں جاسکتا لیکن آئندہ کے لئے احتیاط ضرروی ہے ،اگر سسٹم بیٹھ جائے تو متبادل انتظام ہونا چاہیے ۔ عدالت کے استفسار پر سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے بتایا کہ آر ٹی ایس کریش نہیں ہوا لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ سلو ہوا یا اس نے کام نہیں کیا،آر ٹی ایس نادرا نے بنا کر دیا تھا،رات ساڑھے گیارہ بجے تک نتائج آتے رہے ۔عدالت نے کیس کی سماعت 15اگست تک ملتوی کردی ۔عدالت نے قرار دیا کہ ووٹ تارکین وطن کا آئینی حق ہے الیکشن کمیشن نے اب اس بارے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے ۔ انتخابات کے لئے اقدمات پر سیکرٹری الیکشن کمیشن کی تعریف کی اور آبزرویشن دی کہ آزادانہ اور شفاف الیکشن کاا نعقاد الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے لیکن اس ضمن میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے نو دس مہینے ان تھک محنت کی۔دوران سماعت عدالت نے ایک سے زیادہ نشستوں پر الیکشن لڑنے پر تحفظات کا اظہارکیا تو سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا دو سے زیادہ نشستوں پر الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دینے اور خالی ہونے والی نشست کے اخراجات امیدوار سے لینے کی تجویذ دی تھی لیکن پارلیمنٹ نہیں مانی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے لیکن ایک سے زیادہ نشستوں پر لڑنے کے اخراجات امیدوار سے وصول کرنے چاہیئں ۔ عدالت کے استفسار پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ عام انتخابات کے لئے اکیس ارب روپیہ کا بجٹ رکھا گیا تھا ایک حلقے کے الیکشن پر کروڑوں روپیہ خرچ ہوتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا جو لوگ تین چار نشستوں سے کامیاب ہوئے ان حلقوں کے ضمنی الیکشن کے اخراجات ان سے لئے جائیں ، یہ عوام کا پیسہ ہے ،چار حلقوں کے بیس کروڑ روپیہ ڈیم فنڈ میں دے دیں۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا 15سے 20اکتوبر تک پچاس حلقوں میں ضمنی الیکشن ہوگا ،ضمنی الیکشن کے دوران کچھ حلقوں میں تارکین وطن کے ووٹ کا تجربہ آزمائشی بنیاد پر کیا جائے گا جس پر عدالت نے تمام پچاس حلقوں میں تارکین وطن کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کی ہدایت کی۔چیف جسٹس نے کہا سپریم کورٹ نے ووٹ تارکین وطن کا حق قرار دیا ہے ،اب اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے ،عام انتخابات میں کچھ تکنیکی مسائل کی وجہ سے عمل درآمدکا نہیں کہا گیا لیکن ضمنی الیکشن کمیشن کے دوران کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے ۔ جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ کئی لوگ ایک سے زیادہ سیٹوں پر منتخب ہوئے بعض لیڈروں نے چار چار سیٹس چھوڑنی ہیں،کروڑوں روپے الیکشن کے بجائے ہسپتالوں پر کیوں نہ لگیں۔