اسلام آباد(نامہ نگار)قومی احتساب بیورو (نیب ) کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملکی ترقی میں بزنس کمیونٹی کا کردار انتہائی اہم ہے ، اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک جانے والوں کو نیب وطن واپس لانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے ، نیب ملک سے بد عنوانی کے خاتمہ کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھتا ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بزنس کمیونٹی کے ایک وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا، نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک303 ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ، جو نمایاں کا میابی ہے ، جنہوں نے ملک کو لوٹااور آج ان کے پاس مختلف ممالک میں قیمتی جائیدادیں ، پلازے اور اربوں روپے ہیں، نیب مقدمات کی تفتیش کے دوران کسی کی عزت نفس کو مجروح نہیں کرتا، ملکی مفاد، ضمیر، پاکستان کی بہتری، معیشت کی بہتری، دیانتداری سے کام کرنے والے اوربزنس کمیونٹی کے معزز ممبران کو نیب قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ،بزنس کمیونٹی کی شکایات کو فوری طور پر نمٹانے کیلئے نیب ہیڈ کوارٹرز میں ڈائریکٹر سطح کے افسر کی سربراہی میں خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا ہے ، ملک تقریباََ 95 ارب ڈالر کا مقروض ہے ، اس پیسے کو خرچ کرنے والوں کو جوابدہ بنانا نیب کا فرض ہے ، ہمارا مقصد معیشت کو بہتر کرنا اور باہر لے جانے والوں سے لوٹی گئی رقم واپس لانا ہے ، بزنس کمیونٹی کے نمائندوں نے کہا ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے بزنس کمیونٹی چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ دریں اثنا نیب ہیڈ کوارٹرز میں نیب کی ماہانہ کارکردگی کے جائزہ سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا نیب وائٹ کالر کرائم کے میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے جو ایک بڑا چیلنج ہے ، چیئرمین نیب نیب افسران پاکستان کو کرپشن فری بنانے کیلئے اپنی کوششوں کو دوگنا کرینگے ، اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ نیب کے آپریشن اور پراسیکیوشن ڈویژن شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انویسٹی گیشن کو قانون اور ایس او پیز کے مطابق احتساب عدالتوں، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں نمٹانے کیلئے تمام علاقائی بیوروز اور آپریشن ڈویژن سے مل کر کام کر رہے ہیں، تجربہ کار قانونی ماہر، کنسلٹنٹس اور خصوصی پراسیکیوٹرز شامل کرکے پراسیکیوشن ڈویژن کو فعال بنایا گیا ہے ، شہادتوں کو جمع کرنے کیلئے جامع طریقہ کار وضع کیا گیا جس کے نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں۔