ای سی سی نے آئی ٹی کی برآمدات میں اضافے کے لیے وزارت آئی ٹی کی سمری پر مجموعی طور پر چھ ارب روپے کا پیکیج منظور کیا ہے ۔آئی ٹی کی صنعت پاکستان میں ریونیو لانے کا بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ حکومت نے آئی ٹی کے شعبے کے فروغ کے لئے پانچ سال تک ٹیکس استثنیٰ بھی فراہم کر رکھا ہے مگر اس کے باوجود پاکستان کی آئی ٹی برآمدات ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں ۔اس سے مفر نہیں کہ موجودہ حکومت کے اقدامات کے باعث جولائی 2020ء سے دسمبر 2020ء تک پاکستان کی آئی ٹی کی برآمدات میں چالیس فیصد اضافہ ہوا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ چین اپنی آمدنی کا بیس فیصد ای کامرس سے حاصل کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ بھارت میں یہ شرح آٹھ فیصد ہے جبکہ پاکستان کی برآمدات میں آئی ٹی کا حصہ صرف 0.5 فیصد ہے۔ حکومت بہتر تربیت اور سہولیات فراہم کر کے آئی ٹی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کرسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اضافے میں ایک اہم رکاوٹ پاکستان میں رقوم کی منتقلی کے لیے پے پال کی سہولت نہ ہونا ہے۔ حکومت نے آئی ٹی کے فروغ کے لیے چھ ارب کا پیکیج منظور کیا ہے جو احسن اقدام ہے۔ بہتر ہوگا حکومت نوجوانوں کو آئی ٹی کی تربیت کے ساتھ غیر ملکی مارکیٹ تک رسائی میں بھی رہنمائی اور معاونت فراہم کرے تاکہ پاکستانی نوجوان آئی ٹی ایکسپورٹ کے ساتھ ای کامرس میں بھی دنیا کا مقابلہ کرسکیں اور پاکستانی معیشت ترقی کر سکے۔