اسلام آباد ( راجہ کاشف اشفاق) وفاقی حکومت نے لوکل گورنمنٹ کمیشن کی سفارشات پر بلدیاتی ایکٹ 2015 کے چیپٹر11کی شق نمبر99کے تحت بلدیاتی گورنمنٹ کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ، ذرائع کے مطابق گزشتہ روز کرپشن کے سنگین الزامات پر میئر اسلام آباد کو وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے معطل کر دیا تھا جسکے بعدبلدیاتی ایکٹ 2015 کے چیپٹر 8 کے سیکشن 74 کے سب سیکشن(2) کے تحت مئیر کی کسی وجہ سے عدم موجودگی،برطرفی کی صورت میں عمر میں سب سے سینئر ڈپٹی میئر بطور میئر چارج سنبھال سکتا ہے جسکے حساب سے ڈپٹی میئر اعظم خان کو میئر اسلام آباد کا قائم مقام کا چارج سونپا جاسکتا ہے تاہم مس کنڈکٹ یا مالی بے ضابطگی کے الزام پر اگر میئر کو معطل کیا جائے تو ایسے میں اس سیکشن کو اسی چیپٹر کے سیکشن 35 کے ساتھ ملا لیا جائے گا جسکے تحت میئردوبارہ اپنی سیٹ پر آنے کا اہل نہیں ہو سکتا، ذرائع کے مطابق اگر کوئی بھی بلدیاتی ممبر لوکل گورنمنٹ کمیشن کو یہ درخواست دیدے کہ چونکہ تینوں ڈپٹی میئرز کا تعلق ایک ہی سیاسی جماعت(ن لیگ) کے ساتھ ہے اور وہ معطل ہونیوالے میئر کیخلاف جاری تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں تو پھر کمیشن حکومت کو بلدیاتی ایکٹ 2015 کے چیپٹر11شق نمبر99کے تحت کارروائی کی درخواست کرسکتاہے جسکے بعد مذکورہ قانون کے تحت اگرحکومت چاہے تو مداخلت کر کے بلدیاتی ادارہ تحلیل کرکے ایڈمنسٹریٹر تعینات کرسکتی ہے ۔ وفاقی حکومت اسی قانون کے تحت بلدیاتی حکومت کو تحلیل کرنے پر غور کر رہی ہے اور ممکنہ طورپر آئندہ چند روز میں بلدیاتی حکومت کو تحلیل کر دیا جائے گا، اس سے قبل میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز کے خلاف پہلا ریفرنس 7 جنوری 2020 کو لوکل گورنمنٹ کمیشن میں اسوقت کے چیف میٹرو آفیسر ہمایوں نے دائر کیا تھا جس پر میئر نے عدالت سے حکم امتناع حاصل کر لیا تھا۔