لاہور(نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان کی سربراہی میں فل بینچ نے کرونا وائرس کے پیش نظر اقدامات سے متعلق تحریری حکم جاری کردیا جس میں وفاقی حکومت کے وکیل کے درست معاونت نہ کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیاگیا ہے ۔ فیصلہ میں کہا گیا وفاقی حکومت کی جانب سے بیرون ملک سے آنے والے افرادکو ٹھیک طریقے سے ڈیل نہیں کیا گیا، حکومت کو کرونا کی تشخیص ہو جانے والے افراد کو پراسس مکمل کئے بغیر صوبوں کے حوالے نہیں کرنا چاہیے تھا، وفاقی حکومت کے وکیل نے بیان دیا کہ ملک میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے ،ملک میں آئین کے کس آرٹیکل کے تحت ایمرجنسی لگائی گئی وفاقی حکومت کے وکیل بتانے میں ناکام رہے ۔سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ نے بیان دیا کہ کچھ لوگوں کو ایران کے بارڈر سے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی جس سے کرونا وائرس تیزی سے پھیلا،پاکستان میں بارڈر کے راستے کتنے لوگ داخل ہونے والے ہیں وفاقی حکومت کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ،قرنطینہ سنٹرز شہروں کے بالکل وسط میں بنائے گئے ہیں جو خطرناک ہے ۔آئی جی جیل خانہ جات نے ایک قیدی میں کرونا کی تصدیق کی ہے ،آئندہ سماعت پر انڈر ٹرائل ملزمان اورجیل میں 60 سال سے زائد عمر کے قیدیوں کی لسٹ فراہم کی جائے ،جو قیدی دیت کی رقم ادا نہیں کر سکتے انکی لسٹ فراہم کریں،وفاقی حکومت آئندہ سماعت پر بتائے مزید کتنے لوگ بیرون ملک سے پاکستان آ سکتے ہیں،وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کی اس وبا سے بچنے کے لیے کیسے مدد کی، رپورٹ دی جائے ۔ڈیلی ویجر اور مزدوروں کو کیسے بچائیں گے حکومت بتائے ،لاہور ہائیکورٹ کا پانچ رکنی فل بنچ کل کیس کی سماعت کرے گا۔