لاہور(گوہر علی)پنجاب میں حکومتی قانونی اقدامات کو بڑا دھچکا لگ گیا ،پنجاب اسمبلی کا اجلاس تاخیر کا شکار ہونے کی وجہ سے 4 آرڈنینس منسوخ ہوگئے ، مزید 4 آرڈنینس کی منسوخی کا خدشہ پیدا ہوگیا ، جو 4 آرڈنینس منسوخ ہوئے ہیں ، ان کے تحت ہونے والے اقدامات اور انتظامی امور بھی کالعدم ہوگئے ، اگر رواں ماہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہ بلایا گیا چار آرڈنینس مزید منسوخ ہو جائینگے ، پنجاب اسمبلی میں قانون سازی میں رکاوٹ کے بعد اب آرڈنینس بھی اپنی قانونی حیثیت کھونے لگے ہیں، اب حکومت ان 4 منسوخ شدہ آرڈنینس کے تحت کئے گئے اقدامات کو بحال کرانے کے لئے تجاویز پر غورکررہی ہے ،پنجاب اسمبلی کا آخری اجلاس اپوزیشن کی ریکوزیشن پر 11اکتوبر کو منعقد ہوا تھا ، کئی بار پنجاب اسمبلی کااجلاس بلانے کی کوشش کی گئی مگر حالات کی وجہ سے پنجاب اسمبلی کا اجلاس منعقد نہ ہوسکا اور چاروں آرڈنینس منسوخ ہوگئے ،دی پنجاب سیزڈ اینڈ فریزڈ انسٹی ٹیوشن( مدارس اینڈ سکولز ) 22اکتوبر ، دی پنجاب پرونشل ایمپلائز سوشل سیکورٹی14اکتوبر ،دی پنجاب سیزڈ اینڈ فریزڈ فیسلیٹیز( ہاسپیٹلز اینڈ ڈسپنریز)22اکتوبر ،دی پنجاب ریگولیشن آف سروسز( ترمیم)22اکتوبر کو منسوخ ہو ئے ،اب ان چار آرڈنینس کے تحت کئی گئی سرکاری تبدیلیاں ختم ہوگئی، نومبر میں پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہ بلایا گیا تودی راول پنڈی ویمن یونیورسٹی روال پنڈی 24نومبر ،دی پنجاب یونیورسٹی آف میانوالی 24نومبر،دی پنجاب آب پاک اتھارٹی15نومبر،دی پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ 28نومبر کومنسوخ ہوجائیں گے ۔