جامکے چٹھہ (نامہ نگار) گوالے دودھ میں ملاوٹ کر کے مقدار بڑھانے کے لئے یوریا، میلا مائن، فارمالین، صابن، ایسڈ، سوڈیم ہائیڈر اکسائیڈ، سٹارچ، سبزیوں سے کشید کردہ تیل، تالابوں اور جو ہڑوں کے گند ے پا نی کے علاوہ جا نوروں کا ونڈا بنا نے کے لئے استعمال کیا جا نے والا خشک پوڈر کے زریعے مصنو عی اور خطر نا ک کیمیکل کی ملاوٹ شدہ دودھ شہر یوں کو سر عام فر وخت کیا جا رہا ہے جو خو اتین، بچوں اور بوڑھوں کے لئے زہر قا تل ثا بت ہورہا ہے اور اس مضر صحت دودھ کو استعمال کر نے والوں میں جا ن لیوا اور خطرناک امر اض معدہ، گردے ، ڈائر یا، متلی، قے ، آنکھوں کی بینائی متا ثر ہونے کے سا تھ سا تھ دل، کینسر اور ہیپا ٹا ئٹس کی بیما ریا ں لا حق ہورہی ہیں جو دودھ، شہر ی اپنی غذائی ضر وریا ت کو پور ا کر نے کے لئے استعمال کر رہے ہیں وہ ان کے لئے جا ن لیوا ثا بت ہورہا ہے ۔