BN

ججوں کی تضحیک ٹرینڈ بن گیا ،عریاں گالیاں دیتے ،عدالت آکرمعافی مانگتے ہیں سپریم کورٹ

بدھ 16 مئی 2018ء





اسلام آباد(خبر نگار) سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ بدسلوکی کے واقعے میں ملوث پولیس اور اسلام آبادضلعی انتظامیہ کے افسران کو توہین عدالت میں ہوانے والی سزائوں کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیلوں کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے تمام متعلقہ افسران کو فیصلہ سناتے وقت عدالت میں موجود رہنے کا حکم دیا ہے ۔دوران سماعت عدالت نے آبزرویشن دی کہ زیر غور مقدمہ میں نظیر قائم کی جا ئیگی تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات رونما نہ ہو،ایک جج کو بالوں سے پکڑ کر کھینچنے سے زیادہ توہین نہیں ہوسکتی ۔ملزمان کے وکلا کی طرف سے غیر مشروط معافی کی استدعا پر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے ریما رکس دیے کہ آج کل ججوں کی تضحیک ٹرینڈ بن گیا ہے ،عریاں گالیاں دی جاتی ہیں،پہلے ججوں کی بے حرمتی کرے اور پھر عدالت میں آکر کہے کہ ہمیں معاف کردیں ۔فاضل جج نے استفسار کیا کہ کیا یہ کافی ہے ؟۔جسٹس کھوسہ نے چیف جسٹس کے ساتھ جو ہوا وہ ساری دنیا نے دیکھا۔جسٹس گلزار احمد نے کہا سابق چیف جسٹس کے ساتھ جو ہوا اس کا ازالہ کیسے ہوگا؟۔منگل کو جسٹس کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی تو سابق انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس افتخار احمد کے وکیل خالد رانجھا نے دلائل دیتے ہوئے غیر مشروط معافی کی استدعا کی اور توہین عدالت قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مرحلے پر اگر ملزم غیر مشروط معافی کا طلب گار ہو تو عدالت کو اس پر غور کرنا چاہیے ۔جسٹس کھوسہ نے فاضل وکیل کو کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ عدالت کا کوئی اختیار نہیں جب ملزم نے معافی مانگی تو معافی ملنی چاہیے ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا زیر غور کیس میں ملزمان نے فرد جرم عائد ہونے کے بعد غیر مشروط معافی مانگی ،نیک نیتی تب ہوتی جب پہلے مرحلے میں معافی طلب کی جاتی۔وکیل نے کہا کہ جو ہوا افراد تفری میں ہوا ،بعد میں اس پر ندامت ظاہر کی ۔وکیل نے کہا کہ مقدمے کو 11سال ہوگئے ہر مرحلے پر معافی مانگی گئی۔جس پر جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ریکارڈ ا سکے برعکس ہے ،فرد جرم عائد ہونے کے بعد غیر مشروط معافی کی استدعا کی گئی،نیک نیتی یہ ہے کہ اگر سرکاری افسر اپنے کسی عمل پر پشیمان ہو تو وہ استعفیٰ دیدیتا ہے ،لیکن کارروائی شروع ہونے کے بعد معافی کا مطلب ہے کہ وہ جان چھڑانا چاہتا ہے ۔سابق ایس ایس پی اسلام آباد پولیس ،سابق چیف کمشنر خالد پرویز اور ڈپٹی کمشنر محمد علی کی طرف سے و کلاء پیش ہوئے اور غیر مشروط معافی کی استدعا کی۔حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی پیش ہوئے اور ملزمان کی سزائوں کے فیصلے کی حمایت کی۔ دریںاثناء عدالت نے پشاور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن ( پیسکو) کے ملازمین کو پنشن و دیگر مراعات نہ دینے کے معاملے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے اکائونٹس کا ریکارڈ طلب کرلیا ۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیاکہ ابھی تک عدالت کے حکم پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا ؟کیوں نہ پیسکو کے چیف ایگزیکٹو کو بلا لیں؟ عدالت نے کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی ۔ عدالت نے نکالے گئے سرکاری ملازمین کو پیپلز پارٹی کی حکومت میں بحال کرنے کے قانون کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ بظاہر ملازمین کی بحالی کا قانون آئین سے متصادم ہے ۔ سپریم کورٹ اس بارے زیر التوا مقدمات میں ملازمین کی بحالی کے قانون کا جائزہ لے سکتی ہے ۔عدالت نے او جی ڈی ایل ملازم آفتاب احمد سے ملازمت کا کنٹریکٹ لیٹر طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کر دی۔

 

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں