اسلام آباد(خبرنگار)سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس کے کے آغا کیخلاف صدارتی ریفرنس پر ابتدائی کارروائی مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا۔سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئر مین چیف جسٹس جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سنیئر ترین جج جسٹس گلزار احمد اور جسٹس شیخ عظمت سعید کے علاوہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ اور پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھی پر مشتمل 5 رکنی کونسل نے تیسرے اجلاس میں کارروائی کا سامنا کرنے والے فاضل ججوں کے جواب پر اٹارنی جنرل انور منصور خان کے جواب الجواب کا جائزہ لیا۔ذرائع کے مطابق جمعہ کو اٹارنی جنرل نے ریفرنس پر اپنی معروضات پیش کیں۔ ایک گھنٹہ سے زائد جاری رہنے والے اجلاس میں اٹارنی جنرل نے سپریم جوڈیشل کونسل کے بعض سوالات کے جوابات بھی دیئے ۔ پہلے مرحلے کے بعد اگر سپریم جوڈیشل کونسل سمجھے کہ بادی النظر میں ریفرنس بنتے ہیں اور اس میں مزید کارروائی کی ضرورت ہے تو باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگا بصورت دیگر صدارتی ریفرنسز خارج کرکے صدر مملکت کو سپریم جوڈیشل کونسل کی تحریری رائے ارسال کردی جائیگی۔ذرائع نے بتایا کہ مزید ٹرائل کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو کارروائی کا سامنا کرنے والے ججوں کی خواہش پر ٹرائل کھلی عدالت میں بھی ہوسکتا ہے ۔ دوسری جانب ریفرنسز کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں وکلا نمائندوں نے مرکزی گیٹ پر دھرنا دیا اور احتجاج کیا۔اس موقع پر عدالت میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئر مین امجد شاہ نے کہا وکلا کی تمام قیادت اس وقت سپریم کورٹ میں موجود ہے اور کوئی اختلافات نہیں ۔