لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے اطلاع ہے جج ارشد ملک نے استعفی دے دیاہے جو چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ کو مل گیا ہے ،اب وہ اس پوزیشن میں نہیں رہے کہ کام کرسکیں، ا لبتہ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ اصل حقائق کا پتہ چل سکے ۔ ریلوے تباہ حال ہے ، کوئی احساس ذمہ داری نہیں،شیخ رشید حکومت کو بھی بلیک میل کرتے ہیں، افسروں میں سے کوئی ڈھنگ کا آدمی ان کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیارہی نہیں ۔ اب بھی اتنے ہی حادثے ہورہے ہیں جتنے سعد رفیق کے دورمیں ہورہے تھے ،پاکستان ریلوے کا منافع میں آنا ناممکن ہے ۔پروگرام مقابل میں میزبان علینہ شگری سے گفتگو میں انہوں نے کہاریلوے میں نچلے افسروں کا اوپر والے افسروں پر اعتبار نہیں، اس میں چن چن کر خوشامدی لگائے ہیں، شیخ رشید کوئی کام نہیں کررہے ، جس طرح کا وزیر اطلاعات عمران خان کو چاہئے وہ شیخ رشید ہے ، انہیں وہاں بھیج دیا جائے ۔ ا پوزیشن نے پھر بلوچستان سے چیئرمین سینٹ کیلئے امیدوار نامزد کیا، شایدا س لئے تو نہیں کہ جس روز چیئرمین سینٹ قائم مقام صدر بنے تووہ نوازشریف اورآصف زرداری کی سزا معاف کرسکتا ہے ، اگر حکومت اٹھارہ ارکان کو اپنے ساتھ ملا لیں تو اپوزیشن کی تحریک ناکام ہوجائے گی، عمران خا ن نے مجھے سینیٹر بنانے کی پیشکش کی ہے ،اگر حکومت جیت گئی تو اپوزیشن کا بیڑہ غرق ہوجائے گا ، روٹی مہنگی نہیں ہوگی چاہے حکومت کو سبسڈی دینا پڑے ، لاہور کی مارکیٹیں سمگل شدہ مال سے بھری ہیں اس لئے تاجر شناختی کارڈ کی شرط نہیں مان رہے ، اگر پی ٹی آئی کے لوگ عمران خا ن سے کہیں کہ گھی اور چینی پر کیسے ٹیکس لگ سکتا ہے تو مہنگائی نہیں ہوگی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم جرات نہیں کرتے ہیں۔تجزیہ کار ظفر ہلالی نے کہا عمران خان شیخ رشید سے استعفی لیں اورپھر حادثات کی انکوائری کرائیں،اپوزیشن کوسنجرانی منظور نہیں پھربھی نیا امیدوار بلوچستان سے ہے ۔