اسلام آباد (خبرنگار) احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی انکوائری کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائرکردی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت لیک شدہ ویڈیو کی انکوائری کا حکم دے اورعدلیہ کے وقار کو برقرار رکھنے کیلئے ملوث افراد کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی کی جائے ۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ انکوائری سے عدلیہ کے وقار،عزت اور آزادی پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب مل جا ئیگاکیونکہ ایسا لگتا ہے ویڈیو لیک ہونے سے عدلیہ کی آزادی پر سوال اٹھایا گیا ہے ۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت ہر صورت اس معاملے کی انکوائری کرائے ۔آئینی درخواست اشتیاق احمد مرزا نے ایڈوکیٹ چودھری منیر صادق کے ذریعے دائر کی ہے جس میں وفاقی حکومت،اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم صفدر،سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور راجہ ظفر الحق کو فریق بنایا گیا ہے جبکہ درخواست میں ویڈیو کے مرکزی کردار ناصر بٹ اور پیمرا کو بھی فریق بنایا گیا ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ6 جولائی کو مریم صفدر اور دیگرنے پریس کانفرنس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک اور ناصر بٹ کے درمیان بات چیت کی ویڈیو چلائی،اس ویڈیو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عدلیہ آزادی سے کام نہیں کرتی اور بلیک میل ہوتی ہے ۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ6 جولائی کی پریس کانفرنس کا ریکارڈ پیمرا سے طلب کیا جائے ۔پریس کانفرنس میں جوالزامات عدلیہ پر لگائے گئے ان کی انکوائری ہونا ضروری ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جج ارشد ملک اپنی پریس ریلیز میں مریم نواز کے لگائے گئے الزامات ماننے سے انکار کرچکا ہے جج ارشد ملک نے جو پریس ریلیز میں رشوت کی آفر کرنے کی بات کی ہے وہ سنجیدہ نوعیت کی ہے اورمریم نواز نے جو الزامات پریس کانفرنس کے دوران لگائے ہیں وہ توہین عدالت ہے اس لئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی جائے کہ عدلیہ کی آزادی کیلئے اقدامات کرے ۔