لاہور ( رانا محمد عظیم) احتساب عدالت کے جج کی مبینہ ویڈیو کے حوالے سے آئندہ چند روز میں اہم ترین کارروائی متوقع ہے ۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے ن لیگ کی طرف سے اگر کوئی درخواست اس مبینہ ویڈیو کے فرانزک آڈٹ کے حوالے سے سامنے نہیں آ تی تو پھر اس ویڈیو کے فرانزک آڈٹ کے حوالے سے ایک اہم ادارہ کو ذمہ داری سونپے جانے کا امکان ہے اور یہ ذمہ داری بھی ایک اہم ادارے کی طرف سے دی جائے گی اور اس کی فرانزک رپورٹ کیلئے مریم نواز سمیت پریس کانفرنس میں بیٹھے تمام ن لیگی رہنمائوں سے اصل ویڈیو کیمرہ مانگا جائے گا اور ساتھ میں جن لوگوں نے ویڈیو بنائی اور جو اس کے کردار ہیں ان کو بھی طلب کیا جائے گا۔ اگر اصل ویڈیو کیمرہ اور اس کے کردار سامنے نہیں آتے اور اداروں کو وہ چیز مہیا نہیں کی جاتی تو پھر مریم نواز ، شہباز شریف ، شاہد خاقان عباسی ، خواجہ آصف، پرویز رشید، رانا تنویر سمیت جو رہنما پریس کانفرنس میں موجودتھے ان کیخلاف مقدمہ درج ہو سکتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ان تمام سوشل میڈیا اکائونٹس جن سے پہلی مرتبہ اس مبینہ ویڈیو سے منسلک دیگر حصے سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے ہیں ان اکائونٹس کے حوالے سے بھی کارروائی ہو گی ۔ ذرائع کا کہنا ہے ن لیگ کے اندر بھی باقاعدہ اس معاملے پر پلاننگ ہو رہی ہے اور شہباز شریف اس دن سے لیکر آج تک اس مبینہ ویڈیو کے حوالے سے اسلئے خاموش ہیں کہ اس مبینہ ویڈیو کی اصل کاپی ان کے پاس بھی نہیں اور ان کو بھی خدشہ ہے کہ اس کارڈ کے کھیلنے سے فائدے سے زیادہ نقصان ہو سکتا ہے ۔ دوسری طرف اس مبینہ ویڈیو کے مرکزی کردار ناصر بٹ کو کسی بھی صورت میں کسی بھی قانونی ادارے کے آگے پیش کرنے کے حوالے سے مریم نواز اور ان کے قریبی رفقا تیار نہیں جبکہ کچھ ن لیگی رہنمائوں کا خیال ہے کہ اگر اعلی عدلیہ بلاتی ہے تو پھرناصر بٹ کو پیش ہونا چاہئے ۔نا صر بٹ کے حوالے سے یہ موقف اپنانے کی کوشش کی جائے گی کہ وہ برطانوی شہریت رکھتے ہیں اور پاکستان کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے ۔ سپریم کورٹ بار کے سابق سیکرٹری آفتاب احمد باجوہ نے روزنامہ 92 نیوزسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس ویڈیو کے سچے اور جھوٹے ہونے کا فیصلہ لازمی ہونا چاہئے ۔ میری اطلاع کے مطابق اس پر جلد کچھ ہو رہا ہے ۔