جہیز کے معنی ہیں سامان تیار کرنا، مہیا کرنا خواہ وہ کسی مسافر کسی دلہن یا کسی میت کے لئے ہو۔عام طور پر جہیز اس سامان کو کہتے ہیں جو لڑکی کو نکاح کے بعد اس کے ماں باپ کی طرف سے دیا جاتا ہے ۔ہمارے ہاں شادی بیاہ کی اکثر رسومات ہندو کلچر سے رواج پا گئیں ہیں ،جن کا اسلامی تہذیب میں رواج نہ تھا ۔ اگرچہ مسلمانوں نے اسلامی تشخص کا امتیاز برقرار رکھنے کی کوشش کی لیکن ہندوستانی تہذیب و تمدن، معاشرت ، ثقافت اور رسومات سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ بھاری بھرکم جہیز بھی انہی رسومات میں سے ایک رسم ہے مگراسلام تعلیمات کے مطابق مرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جہیز کا مختصر ضروری سامان جمع کرے ۔ قرآن و حدیث میں کہیں بھی اس بات کا ثبوت نہیں ملتا کہ جہیز کے سامان کی تیاری یافراہمی لڑکی یا اس کے والدین کی ذمہ داری ہے بلکہ عورتوں پر مردوں کی فضیلت کی ایک اہم وجہ ان پر اپنے مال کو خرچ کرنا ہے نہ کہ جہیز کی صورت میں مال بٹورنا،جب کہ والدین اپنی بیٹی کو خوشی اور استطا عت کے مطابق نکاح کے موقع پر کچھ تحفۃً دیناچاہیں تو ممانعت نہیں لیکن دینالازم و ضروری بھی نہیں ہے ۔نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعدد نکاح فرمائے اور ایک روایت بھی ایسی نہیں ملتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح پر جہیزوالاکوئی معاملہ ہوا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے جہیز کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ۔طبقات ابن سعد اوردیگر کئی معتبر کتب حدیث میں میں صرف ایک ہار کے تحفے کا ذکر ملتا ہے جو سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے نکاح پر ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی بیٹی کوتحفے میں دیاتھااورجب ابوالعاص (حالت کفر میں) جنگ بدر کے قیدیوں کے ساتھ قیدی بن گئے تو سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے شوہرکی رہائی کے لئے وہ ہار نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بھجوایا ،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مشورے سے وہ ہار سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو واپس بھجوا دیا اور ان کے شوہر کو بھی آزاد کر دیا (سیرت ابن ہشام ،طبقات ابن سعد )اس حوالہ سے یہ جواز ملتا ہے کہ والدین کے اپنی بیٹی کو اس کے نکاح کے پرمسرت موقع بطور تحفہ کچھ دینے میں کوئی حرج نہیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یکے بعد دیگرے اپنی دو صاحبزادیوں سیدہ رقیہ اور سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہما کا نکاح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کیا تو چونکہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مالدار اور صاحب ثروت تھے اور ان کا اپنا مکان بھی موجود تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے لئے کچھ انتظام کرنے کی ضرورت نہ پڑی۔ اسلام میں نکاح کا کوئی خرچ عورت کے ذمہ نہیں رکھا گیا بلکہ نکاح میں حق مہر اور نان نفقہ مرد ہی کے ذمے ہے ۔لہٰذا عورت پر خرچ کیا جائے گا نہ کہ اس سے مانگا جائے گا۔ اگر والدین اور ورثا اپنی لڑکیوں کو فرض سمجھ کر کچھ دینا چاہتے ہیں تو انہیں جہیزکی بجائے وراثت سے حصہ دیں، جس کے بارے میں قرآن و حدیث میں واضح احکام ہیں اور نہ دینے والوں کے لئے درد ناک عذاب کی وعید ہے ۔اگر شریعت میں جہیزدینے کی ذرا بھی اہمیت ہوتی تو اسے نظر انداز نہ کیا جاتا۔ ہمارے ہاں یہ بات بڑی مشہور ہو چکی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی شہزادی سیدۂ کائنات سیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہا کو جہیز دیا تھا لہذا’’جہیز دینا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ‘‘یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے اور حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ،غور طلب بات ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان رحمت سے یہ کیسے گوارا کیا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک بیٹی کو تو کچھ دیں اور باقی شہزادیوں کو محروم کر دیں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم عطیہ دینے میں اولاد کے درمیان برابری کرو (سنن النسائی :3382) اسلام میں جہیزکے جوازکے لئے عموماًلوگ سیدۂ کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح کا حوالہ دیتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ضروریات زندگی کا سامان مثلا مشکیزہ ،چکی ، برتن اور چادریں وغیرہ دئیے تھے یہ گویا ایک قسم کا جہیز تھا یہ محض ان کی غلط معلومات کا نتیجہ ہے مستند کتب سیرت و احادیث میں یہ واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سیدۂ کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے نکاح کا ارادہ فرمایا تو ان سے دریافت کیا کہ ان کے پاس کیا ہے ؟حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیر کفالت تھے اور ان کے پاس گھرداری کا کوئی علیحدہ سامان نہیں تھا تو انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس زرہ، تلوار اور ڈھال کے سوا اورکوئی مال و زر نہیں ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں زرہ فروخت کرنے کا ارشاد فرمایا جو کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان سے تقریباً پانچ سو درہم میں خرید لی اور وہ رقم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لا کربطور حق مہر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کردی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی رقم سے ان کے لئے گھریلو زندگی اور خانہ داری کی چند ضروری اشیاء خرید کر دیں تاکہ انہیں اپنا گھر چلانے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے ۔(ابوداؤد:2125، زرقانی علی المواھب 2 :4) چاند ی کا ہار سیدۂ فاطمہ رضی اللہ تعالی ٰ عنہا ہی کا تھا جوان کو اپنی والدہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ترکہ میں ملا تھا ۔مخدومۂ کائنات سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو نکاح کے بعد ایک چادر، مشک اورایک تکیہ، جس میں اِذخر گھاس بھری ہوئی تھی کے ساتھ رخصت فرمایااور اس سامان کا انتظام بھی سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی فروخت کردہ زرہ کی رقم میں سے ہی کیا گیاتھا۔ اگر بالفرض یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ سامان اپنی طرف سے اپنی بیٹی کو دیا تھا پھر بھی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مروجہ جہیز کی رسم سنت سے ثابت ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سامان اس لئے دیا ہوگاکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیر کفالت تھے جس طرح کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب ابوطالب کے ہاں زیر کفالت تھے ایک اور وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد مؤاخات کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا بھائی بنایا تھا گویا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح کے موقع پر ضروری انتظامات خاتم النبیین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی کرنے تھے لہٰذاشادی پر لڑکی کے والدین کا جہیز دینا کوئی شرعی حکم نہیں ہے اور نہ ہی یہ لازمۂ نکاح ہے اور نہ سنت ہی ہے ۔ جہیز کا سامان مہیا کرنے کا ذمہ دار خاوند ہے ۔ لیکن آج ہمارے معاشرے میں کئی ایسی رسومات پائی جاتی ہیں جن کا شریعت اسلامی میں کوئی تصور نہیں پایا جاتامگر ہمارے معاشرے میں آگیا ہے اور جڑ پکڑ چکا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں اسلامی احکام کو سمجھنے اور ان پرعمل کرنے کی توفیق دے ۔ مآخذ:کتب احادیث ،طبقات ابن سعد، سنن نسائی،اسلامی انسائیکلوپیڈیا، اسلام میں عورت کی حیثیت۔