جعلی اکائونٹس کیس کی انکوائری میں پلی بارگین کر کے صرف ایک کیس میں عبدالغنی مجید سمیت 7ملزمان نے 10ارب 66کروڑ روپے سرکاری خزانہ میں جمع کرانے اور 266ایکڑ اراضی واپس کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ نیب نے 2015ء میں جعلی اکائونٹس اور فرضی لین دین کے حوالے سے آصف علی زرداری ان کی بہن فریال تالپوراور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کا آغازاور ابتدائی طور پر29بے نامی اکائونٹس کے ذریعے 35ارب کی مشکوک منتقلی کا دعویٰ کیاتھا۔ سندھ حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث تحقیقات طول پکڑتی گئیںاور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تو معزز عدالت نے نیب کو منصفانہ تحقیقات جاری رکھنے اور تحقیقات کو سیاسی مداخلت سے بچائے رکھنے کے لئے مقدمات اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دیا جس کے بعد سندھ حکومت کی مداخلت میں کمی آئی اور سابق صدر سمیت ان کے قریبی رفقا جن میں اومنی گروپ کے عبدالغنی بھی شامل ہیں گرفتار کر لئے گئے۔ عوامی دبائو شفاف تحقیقات اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا بھی نتیجہ ہے کہ آج نیب صرف ایک کیس میں ملزمان سے پونے 11ارب کی خطیر رقم اور 266ایکڑ واپس لینے میں کامیاب ہوا ہے۔ مگر بدقسمتی سے گزشتہ روز حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے نیب اختیارات محدود کر دئیے ہیں، بہتر ہو گا حکومت آرڈیننس کے ذریعے نیب کے دانت نکالنے کے بجائے میگا کرپشن کیسزکو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے نیب کے ہاتھ مضبوط کرے تاکہ مستقبل میں قومی خزانہ کو لوٹنے کا سلسلہ ختم ہو سکے۔