اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں) احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سات ملزمان حماد شاہد، عبدالغنی، طارق بیگ،محمد اقبال، محمد توصیف، عامراورسراج شاہد کی پلی بار گیننگ کی درخواست منظور کرلی۔نیب نے پلی بارگیننگ کرنے والے ملزمان کو احتساب عدالت میں پیش کیا۔ڈپٹی ڈائریکٹر نیب قمرشہزاد نے بتایاملزمان نے پلی بارگین کی درخواست دی جوچیئرمین نیب نے منظور کرلی۔ جج محمد بشیر نے ملزمان سے پوچھا کیا آپ لوگوں پر پلی بارگین کے لئے کسی کا دباؤہے ؟ ،ملزمان نے بتایاکسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں، ہم اپنی خوشی سے پلی بارگیننگ کر رہے ہیں۔تفتیشی افسر کے مطابق ملزم طارق بیگ نے 33، محمد اقبال نے 32 ایکڑ ، ملزم عامر نے 40، سراج شاہد نے 50 ایکڑ زمین واپس کی۔ملزم عبدالغنی سے 37، حامد شاہد سے 34 ایکڑ زمین واپس لی گئی، 10 ارب 66 کروڑ روپے کی زمین پاکستان سٹیل ملز کو واپس دلوا دی گئی ہے ،زمینوں کی الاٹمنٹ کے کیس میں ملزم محمد توصیف نے 42 کروڑ روپے نقد بھی واپس کئے ، توصیف کو وعدہ معاف گواہ بھی بنایا گیا ہے ۔احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی و دیگر ملزمان کے خلاف اشتہارات کے غیرقانونی ٹھیکوں کے کیس میں فردجرم عائد نہ ہو سکی، عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کی نئی تاریخ 31 اکتوبر مقرر کرکے انعام اکبر ودیگر ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس کی سماعت 16اکتوبر تک ملتوی کر دی ،دور ان سماعت شریک ملزمان سعید احمد، منصور رضا رضوی اور نعیم محمود عدالت میں پیش ہوئے ،تفتیشی افسر نے 2007 میں ابتدائی تفتیش کی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی، وکیل صفائی قاضی مصباح نے کہا اسحاق ڈار کے خلاف تفتیش مکمل کرنے کا خط آپ کے پاس موجود ہے ۔ تفتیشی افسر نادر عباس نے کہا خط ابھی میرے پاس موجود نہیں ،عدالت نے اگلی سماعت پر خط عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا۔