کراچی (رپورٹ: وکیل الرحمان)جعلی بینک اکائونٹس میں ملوث افسران اور بدعنوان افراد اکائونٹس ڈیٹا چوری معاملے کو اپنے بچاؤ میں استعمال کرنے کیلئے سرگرم ہوگئے ، جعلی اکائونٹس کے پیچھے چھپے بڑے مگرمچھوں نے سارا ملبہ ہیکرز کے سر ڈالنے کی کوششیں شروع کردیں۔ ذرائع کے مطابق جعلی اکائونٹس اور بینکوں کا ڈیٹا چوری ہونے کے معاملات میں بظاہر کوئی مطابقت نہیں لیکن گہرائی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں معاملات میں بینکوں کی جانب سے سنگین غفلت کا ارتکاب کیا گیا، جعلی اکائونٹس کے معاملے میں اکائونٹس کھلوانے کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور بینک عملے کے ملوث ہونے کا بھی قوی امکان ہے جبکہ ڈیٹا چوری ہونے کے معاملے میں بھی بینکوں نے کسٹمرز کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے میں کوتاہی برتی تاہم جعلی اکائونٹس کی نسبت سائبر حملے میں ملازمین اور افسران کو زیادہ مسئلہ نہیں کیونکہ سائبر حملے میں زیادہ سے زیادہ ان کی غفلت سامنے آرہی ہے جبکہ جعلی اکائونٹس زیادہ سنگین مسئلہ ہے جس میں تحقیقات اعلی افسران اور دیگر ملوث افراد تک جاسکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں معاملات یکے بعد دیگرے سامنے کا معاملہ اتفاقیہ ہوسکتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بینکوں کا ڈیٹا چوری ہونے کے معاملے کو بعض عناصر اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرنے لگے ہیں جس کے مطابق وہ بینک ڈیٹا چوری کے معاملے کو جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کرپیش کر رہے ہیں جس کا مقصد جعلی اکائونٹس میں ملوث بینک اہلکاروں اور افسران کو بچانا ہے ، بینک افسران متوقع طور پر تحقیقاتی اداروں کے سامنے موقف اختیار کرسکتے ہیں کہ جعلی اکائونٹس اور بھاری رقوم کی ٹرانزیکشنز ہیکرز کا کارنامہ ہے ، اس طرح منی لانڈرنگ اور کرپشن کے خلاف تحقیقات متاثر ہوسکتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک کا اس پورے معاملے میں کردار انتہائی اہم ہے مرکزی بینک دونوں معاملات کو الگ الگ رکھ کر اور معاملے کو محدود رکھنے میں موثر کردار ادا کرسکتا ہے جبکہ دیگر متعلقہ اداروں نے بھی صورتحال پر گہری نظر نہیں رکھی تو چند لوگوں کو بچانے کے چکر میں پورے بینکاری شعبے کو ناقابل تلافی نقصانات پہنچنے کا خدشہ ہے ۔